تحقیقِ عارفانہ — Page 389
۳۸۹ سلطان محمد صاحب کی وعیدی موت سے مشروط تھی۔مرزا سلطان محمد صاحب کے شرط توبہ سے فائدہ اٹھا لینے کے بعد اب نکاح کا ضروری ہونا صرف اس بات سے مشروط ہو کر رہ گیا تھا کہ سلطان محمد صاحب کسی وقت حضرت اقدس کی زندگی میں ہی تو بہ کو توڑ دیں اور پیشگوئی کی تکذیب کریں۔مگر مرزا سلطان محمد صاحب نے پیشگوئی کے مطابق اپنے خسر کی موت واقع ہو جانے سے یہ سبق لے لیا کہ وہ تو بہ کریں اور پھر اس پر قائم رہیں۔اس لئے آسمان پر مشروط صورت میں مقدر نکاح کا زمین پر وقوع میں آنا ضروری نہ رہا۔الهام تكفيك هذه الامراة سے (کہ یہ عورت جو آپ کے نکاح میں ہے آپ کے لئے کافی ہے) آپ کو یہ احساس پیدا ہوا کہ اب محمدی بیگم سے نکاح ضروری نہیں رہا۔البتہ چونکہ مرزا سلطان محمد صاحب کی طرف سے تکذیب پیشگوئی کا عقلی امکان اب بھی باقی تھا۔مگر وہ ایک کمزور احتمال تھا اس لئے آپ نے ”ضح ہو گیا کے ساتھ یا تاخیر میں پڑ گیا " کا فقرہ اس کمزور احتمال کے پیش نظر ہی لکھا ہے۔ورنہ اب غالب گمان آپ کا یہی تھا کہ نکاح ضروری نہیں رہا۔اور پیشگوئی کا یہ حصہ عند اللہ منسوخ ہو چکا ہے۔چنانچہ ۱۹۰۸ء کے بدر میں آپ نے صرف پیشگوئی کے مل جانے کے پہلو کا ہی ذکر فرمایا ہے۔وہاں دوسرے احتمال کا ذکر نہیں فرمایا جو آپ کے نزدیک پیشگوئی کے مل جانے کے پر غالب گمان کی قطعی دلیل ہے۔ہر آسمانی نکاح کازمین پر وقوع ضروری نہیں یہ واضح رہے کہ ہر آسمانی نکاح کے لئے یہ ضروری نہیں وہ زمین پر بھی ضرور وقوع پذیر ہو بلکہ آسمانی نکاح بعض اوقات تعبیر طلب بھی ہوتا ہے۔چنانچہ طبرانی اور ابن عساکر نے ابن ابی امامہ کے مرفوعا روائت کی ہے :-