تحقیقِ عارفانہ — Page 361
شرط نہ بھی بیان کی گئی ہو اس لئے وہ تو بہ اور رجوع پر ٹل جاتی ہے اور یہاں تو الہام نے صاف طور پر تو بہ کی شرط بیان بھی کر دی تھی۔اس لئے محمدی بیگم صاحبہ کے خاوند کی تو بہ اور رجوع الی اللہ سے نکاح کی پیشگوئی مل گئی ہے۔پس خدا تعالیٰ کے الہامات پر کسی شخص کو یہ اعتراض کرنی کا کوئی حق نہیں کہ نکاح کیوں وقوع میں نہ آیا۔سلطان محمد کی توبہ کا قطعی ثبوت جب بعض لوگوں نے یہ اعتراض کیا کہ سلطان محمد کی موت پیشگوئی کے مطابق واقع نہیں ہوئی۔اس لئے پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو اس کے جواب میں حضرت اقدس نے انجام آتھم کے حاشیہ صفحہ ۳۲ پر تحریر فرمایا کہ :۔(الف) فیصلہ تو آسان ہے احمد بیگ کے داماد سلطان محمد سے کہو کہ تکذیب کا اشتہار دے پھر اس کے بعد جو معیاد خدا تعالیٰ مقرر کرے۔اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔“ (ب) اور ضرور ہے کہ یہ عید کی موت اس سے تھی رہے۔جب تک وہ گھڑی نہ آجائے کہ اس کو بے باک کر دے ، سواگر جلدی کرنا ہے تو اٹھو اس کو بے باک اور مکذب بناؤ اور اس سے اشتہار دلاؤاور خدا کی قدرت کا تماشادیکھو۔“ (انجام آتھم صفحہ ۳۲) ان دونوں حوالوں سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کے اس چیلنج کے بعد اگر مرزا سلطان محمد خاوند محمدی بیگم صاحبہ کسی وقت شوخی اور بے باکی دکھاتے یا مخالفین اُن سے تکذیب کا اشتہار دلانے میں کامیاب ہو جاتے تو پھر اس کے بعد مرزا سلطان محمد صاحب کی موت کے لئے جو معیاد مقرر کی جاتی وہ قطعی تقدیر مبرم ہوتی اور اس کے مطابق مرزا سلطان محمد صاحب کی موت ضرور وقوع میں آتی اور اسکے بعد محمدی دیم صاحبہ کا نکاح حضرت اقدس سے ضروری اور اٹل ہو جاتا۔