تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 327 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 327

۳۲۷ ترجمہ : -عھر الیھا کے معنی ہیں وہ کسی عورت کے پاس رات کو بد کاری کے لیے گیا۔پھر اس لفظ ( عمر ) کا استعمال مطلق زنا کے لئے عام ہو گیا ( یعنی وقت کی قید نہ رہی کہ رات کو بد کاری کرے اور یہ بھی کہا گیا اس کے معنی ہی بدکاری ہیں۔خواہ کسی وقت ہو۔آزاد عورت یا لونڈی سے فاجرہ عورت کو عامرہ معاصرہ اور مسافحہ کہتے ہیں۔اور احمد من یکی اور المبرد نے کہا کہ بد کار عورت کے لئے ٹھر کا لفظ ہے اور دونوں نے کہا کہ یاء کا حرف اس میں زائد ہے۔اور مادہ اس کا گھر ہے۔لغت کے ان دونوں حوالوں سے ظاہر ہو گیا کہ زنیم کے معنی جو ولد العبهرة کئے گئے ہیں اس کا مفہوم زانیہ عورت کا لڑکا یعنی ولد الزنا ہے۔اگر برق صاحب کی اس سے تسلی نہ ہو اور زنیم کے معنوں میں ولد الزنا کا لفظ ہی دیکھنا چا ہیں تو تفسیر روح المعانی جلد 9 صفحہ ۱۴۰ میں آیت زیر بحث کی تفسیر ملاحظہ فرمالیں۔وہاں وہ یہ لکھا یا ئیں گے۔زَنِيمُ دَعَى مُلحَقِّ بِقَوْمٍ لَيْسَ مِنْهُمْ كَمَا قَالَ ابنُ عَبَّاسِ وَالْمُرَادُ بِهِ وَلَد یعنی زنیم ایسے شخص کو کہتے ہیں جو کسی قوم سے ملحق ہو اور (دراصل ان میں سے نہ ہو۔جیسا کہ حضرت ابن عباس نے کہا ہے۔اور مراد اس سے ولد الزنا ہے گویاز نیم سے دعی کی ایک خاص قسم مراد ہوتی ہے یعنی مراد اس سے ولدالزنا ہو تا ہے خود المنجد کا حوالہ جو برق صاحب نے پیش کیا ہے۔اس میں بھی دراصل اسی نوع کا دعی۔ہی مراد ہے نہ کہ متبنی یہ لفظ تو برق صاحب نے بریکٹ میں اپنی طرف سے بڑھا کر مغالطہ دیا ہے۔کیونکہ اس جگہ دعی کے بعد لکھا ہے۔النَّاحِقُ بِقَوْمٍ لَيْسَ مِنْهُمْ وَلَا هُمُ يحتاجون اللہ کہ زنیم سے وہ دعی مراد ہے جو کسی قوم میں اپنے آپ کو شامل کر لے اور ان میں سے نہ ہو۔اور ان لوگوں کو اس کی کوئی ضرورت نہ ہو۔صاف ظاہر ہے کہ اس