تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 312 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 312

۳۱۲ قرآنیہ کی رو سے اس پر مبسوط بحث کی ہے وہ آیات یہ ہیں۔دود ا فَمِنْهُمْ ظَالِمُ لِنَفْسِهِ وَ مِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَ مِنْهُمْ سَابِقُ بِالْخَيرَتِ (فاطر :۳۳) ٢- فَا لَهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوهَا۔(الشمس : ٩) ٣ - وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءٍ أَوْ يَظْلِمُ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا - (النساء : ااا) مگر برق صاحب کو حضرت صاحب کی بہتر (۷۲) کتابوں میں صرف دو تین آئی نظر آئی ہیں وہ بھی بقول انکے مبلغ علم کا اندازہ لگانے کے لئے ناکافی ہیں۔اگر وہ آنکھیں کھول کر دیکھتے تو صفحہ اے کے ذیل میں ہی جو حاشیہ ہے اس میں اوپر کی تین آئیں زیر بحث لا کر ان سے انسانی فطرت کی حقیقت پر قرآن شریف کی رو سے روشنی ڈالی گئی ہے۔پھر اس کے بعد سورہ نور کی آیت الله نُورِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ کی لطیف تغییر پیش کی گئی ہے اور مثل نُورہ گمشکوۃ کی حقیقت کو آنحضرت ملے کے وجود کے ذریعہ ثابت کیا ہے یہ مضمون بھی طالبان بصیرت کے لئے پر از معرفت ہے۔اسی طرح خود براہین احمدیہ میں بیسوں آیات کی تفسیر موجود ہے صفحہ ۴۲۷ پر توحید کے بارہ میں وید کی شرتیوں کے مقابلہ میں جن میں شرک کی تعلیم دی گئی ہے آیات قرآنیہ سے توحید الہی کا مضمون بیان کیا گیا ہے۔پس برق صاحب کی یہ کس قدر تنگ دلی ہے کہ بجائے اس کے کہ ان کا دل شکریہ کے جذبات سے بند ہو تا کہ ایک مرد مجاہد نے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے وجود میں اسلام کی بے نظیر مدافعت کر کے ایک عظیم الشان خدمت سر انجام دی۔اور اسلام کی لاج رکھ لی ہے۔وہ الٹا آپ کو کوس رہے ہیں کہ آپ کی کتابوں میں کوئی علم قرآن موجود نہیں۔اور اپنی کتاب کا نام حرف محرمانہ رکھتے ہیں جو دراصل حرف مجرمانہ کہلانے کی مستحق ہے۔