تحقیقِ عارفانہ — Page 305
۳۰۵ معاند احمدیت کو بھی یہ لکھنا پڑا کہ : " ہم خدا لگتی کہنے سے رک نہیں سکتے کہ ڈاکٹر صاحب اگر اسی پر بس کرتے یعنی چوده ما بہ پیشگوئی کر کے مرزا کی موت کی تاریخ مقرر نہ کر دیتے جیسا کہ انہوں نے کیا۔چنانچہ ۱۵ مئی کے اہل حدیث میں ان کے الہامات درج ہیں۔۲۱ ساون یعنی ۴ اگست کو مر زا مرے گا۔تو آج وہ اعتراض نہ ہو تا جو معزز پیسہ اخبار نے ۲۷ کے روزانہ پیسہ اخبار میں ڈاکٹر صاحب کے اس الہام پر چہتا ہوا کیا ہے کہ ۲۱ ساون کو کی جائے ۲۱ ساون تک ہو تا تو خوب ہوتا۔غرض سابقہ پیشگوئی سه سالہ اور چودہ ماہہ کو اسی اجمال پر چھوڑے رہتے اور ان کے بعد میعاد کے اندر تاریخ کا تقرر نہ کر دیتے تو آج یہ اعتراض پیدانہ ہوتا۔“ اخبار اہل حدیث ۱۲؍ جون ۱۹۰۹ ء صفحہ ۷ ) پس حضرت اقدس کی وفات کا ۲۶ / مئی ۱۹۰۸ء کو اپنی پیشگوئیوں کے مطابق واقع ہو نا ڈاکٹر عبدالحلیم خان کی پیشگوئی کو جھوٹا ثابت کر رہا ہے۔حضرت اقدس کو اپنی وفات کے متعلق مندرجہ ذیل الہامات ڈاکٹر عبدالحلیم کی پیشگوئی سے پہلے ہو چکے تھے۔مَا تُوعَدُونَ قَرُبَ أَجَلُكَ الْمُقَدَّرُ۔قَلَ مِيُعَادُ رَبِّكَ۔۔۔جَاءَ وَقُتُكَ وَقَرُبَ " " ” تیری اجل مقدر قریب آگئی ہے۔تیری نسبت خدا کی میعاد مقررہ تھوڑی رہ گئی اور جو وہ وعدہ کیا گیا وہ قریب ہے۔آگے چل کر فرماتے ہیں ” پھر بعد اسکے خدا تعالٰی نے میری وفات کی نسبت اردو زبان میں مندرجہ ذیل کلام کے ساتھ مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔اس دن سب پر اداسی چھا جائے گی۔“ (الوصیت صفحه ۳) -۲ اکتوبر ۱۹۰۵ء میں رویا دیکھا جو انہی دنوں شائع ہو گیا۔اس سے ظاہر تھا کہ حضور