تحقیقِ عارفانہ — Page 304
۳۰۴ پس ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے اپنے اس جدید الہام سے اپنے چودہ ماہ میعاد والے الہام اور ، اگست ۱۹۰۸ء تک کی میعاد والے الہام کو منسوخ کر دیا کیونکہ اب اس نے حضرت اقدس کی وفات کی ایک معین تاریخ مقرر کر دی تھی۔اس لئے خدا تعالی کے لیے اب ضروری نہ رہا کہ وہ عبدالحکیم کے پہلے چودہ ماہ الہام کے بالمقابل حضرت اقدس کی عمر بڑھانے والے الہام پر عمل کرے۔کیونکہ یہ عمر بڑھانے والا الہام ۴ اماہہ میعاد کے مقابلہ میں تھا۔جب وہ میعاد قائم نہ رہی تو اذافات الشرط فات المشروط کے مطابق ڈاکٹر عبدا حکیم خاں کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے حضرت اقدس کی عمر بڑھانے کی ضرورت بھی نہ رہی۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو آپ کے سابقہ الہامات کے مطابق جو آپ اپنے رسالہ الوصیت وغیرہ میں شائع فرما چکے تھے۔۲۶ / مئی ۱۹۰۸ء کو وفات دے دی اور ڈاکٹر عبدا حکیم خاں کی پیشگوئی کا جھوٹا ہونا ظاہر کر دیا۔عمر بڑھانے کی پیشگوئی میں بھی اصل مقصود شمن کو جھوٹا کر نا بتا یا گیا تھا۔جب دشمن نے اپنی پہلی پیشگوئیوں کو آپ منسوخ کر دیا۔تو اب دشمن کے جھوٹا کرنے کے لئے یہ امر کافی تھا کہ حضرت اقدس اس کی بیان کردہ معین تاریخ ۲۱ ساؤن سمت ۱۹۶۵ مطابق ۴ ر اگست ۱۹۰ کو وفات نہ پائیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔عبدا حلیم خان خود مانتا ہے کہ اس نے ۱۴ اگست تک والے الہام کو بھی منسوخ کر دیا تھا۔چنانچہ اس کا رسالہ اعلان الحق و اتمام الحجہ پڑھیں تو وہ اس کے صفحہ ۱،۱۰ اپر لکھتا ہے۔ایک موقعہ پر بے اختیار میری زبان سے یہ بددعا نکلی کہ خدایا اس ظالم کو جلد غارت کر اس لئے ۴ اگست ۱۹۰۸ء مطابق ۲۱ ساون سمت ۱۹۶۵ کی میعاد بھی منسوخ ہو گئی۔" پس ڈاکٹر عبدا تحکیم خاں کو اوپر کے اعلان میں ۱۴ اگست تک والی پیشگوئی کو منسوخ کرنے کا خود اعتراف ہے۔یہ ایسا واضح اعتراف ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب