تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 294 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 294

۲۹۴ وو حالانکہ جب باقی لٹریچر برق صاحب کو مل گیا تھا تو ۱۹۰۲ء اور ۱۹۰۷ء کا در میانی لٹریچر بھی شائع شدہ موجود تھا۔اس لئے اس زمانہ کی تحریروں کو حجاب خفا میں قرار دینا اعتراض مضبوط کرنے کی خاطر اصل حقیقت کو چھپانا ہے ورنہ درمیانی زمانہ کی کوئی بات پر وہ میں نہیں تھی۔سب باتیں تحریر میں آچکی ہوئی تھیں۔اس درمیانی زمانہ میں مولوی شاء اللہ صاحب مباہلہ کے لئے اپنی اس آمادگی سے پھر گئے تھے۔جس کا ذکر اعجاز احمدی میں کیا گیا تھا۔چنانچہ انہوں نے اپنی کتاب الہامات مرزا“ میں لکھ دیا۔چونکہ یہ خاکسار نہ واقع میں اور نہ آپ کی طرح نبی یار سول یا این اللہ یا الهامی ہے۔اس لئے ایسے مقابلہ کی جرات نہیں کر سکتا۔“ ( الهامات مرز بار دوم صفحه ۸۵) حالانکہ مباہلہ کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ دو ایسے شخصوں میں ہی ہو جو مدعی نبوت ہوں۔اگر ایسا ہوتا تو آنحضرت ﷺ کی معرفت بجز ان کے عیسائیوں کو دعوت مباہلہ صلى نہ دی جاتی۔پس مولوی ثناء اللہ صاحب اس کچے عذر سے اپنے چیلینج سے خود ہی پھر گئے جسے حضرت اقدس نے اعجاز احمدی میں قبول کر لیا تھا۔مگر اس کے بعد پھر ترنگ میں اگر ۲۹ مارچ ۱۹۰۷ء کے پرچہ میں انہوں نے بڑے طمطراق سے میلہ کا چیلنج دے دیا۔چنانچہ اخبار مذکور میں لکھا :- "مرزائیو! بچے ہو تو آؤ اور اپنے گرو کو ساتھ لاؤ میدان عید گاہ تیار ہے۔جہاں تم ایک زمانے میں صوفی عبد الحق غزنوی سے مباہلہ کر کے آسمانی ذلت اٹھا چکے ہو۔اور امر تسر میں نہیں تو بٹالہ میں آؤ۔سب کے سامنے کارروائی ہو گی۔مگر اس کے نتیجہ کی تفصیل کرشن قادیانی سے پہلے کرا دو۔اور انہیں ہمارے سامنے لاؤ جس نے ہمیں رسالہ انجام آتھم میں دعوت مباہلہ دی ہوئی ہے۔“ (اہلحدیث ۲۹ مارچ ۱۹۰۷ء )