تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 241 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 241

۲۴۱ حضرت اقدس نے کہیں بھی انگریزی حکومت ہند کو الدجال یاد جالِ اکبر قرار نہیں دیا۔بلکہ ازالہ اوہام صفحہ ۷۳۱ میں صاف طور پر لکھتے ہیں۔ان دسوں علامتوں میں سے بھاری علامت وجال معہود کی یہ لکھی ہے کہ اس کا فتنہ تمام ان فتنوں سے بڑھ کر ہو گا جو ربانی دین کے مٹانے کے لئے ابتداء سے لوگ کرتے آئے ہیں اور ہم اس رسالہ میں ملامت کر چکے ہیں کہ یہ علامت عیسائی مشنوں میں مولی ظاہر اور ہویدا ہے۔ہمارے نبی ﷺ نے کھلے کھلے طور پر ریل گاڑی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔چونکہ یہ عیسائی قوم کی ایجاد ہے جن کا امام و مقتداء میں د جالی گروہ ہے (پادریوں کا گروہ ناقل) اس لئے ان گاڑیوں کو دجال کا گدھا قرار دیا گیا۔“ نیز شهادت القرآن صفحہ ۲۲ پر فرماتے ہیں :- اس قوم کے علماء اور حکماء نے دین کے متعلق وہ فتنے ظاہر کئے جن کی نظیر حضرت آدم سے تا ایں دم پائی نہیں جاتی۔" ان دونوں عبارتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح کے نزدیک دجالی فتنہ وہ فتنہ ہے جو مذ ہب اسلام کے خلاف عیسائی قوم کے علماء اور حکماء نے پیدا کیا ہے۔پس جن بعض عبارتوں میں عیسائی قوم سے اس فتنے کا پیدا ہو نامند کور ہے۔ایسے حوالہ جات سے برقی صاحب کا از خود یہ نتیجہ نکال لینا درست نہیں کہ حضرت اقدس کے نزدیک دجال سے مراد ہندوستان کی انگریزی حکومت ہے۔جناب برق صاحب حضرت اقدس کی کتابوں سے اقتباسات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :- ان اقتباسات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ دجال سے مراد عیسائی ہیں۔گو بعض مقامات پر مرزا صاحب نے صرف پادریوں کو محض اس بات پر دجال قرار دیا ہے