تحقیقِ عارفانہ — Page 242
۲۴۲ کہ وہ اسلام پر اعتراض کرتے ہیں۔لیکن اگر ان کی تمام تحریروں کو سامنے رکھا جائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ آپ تمام عیسائیوں کو دجال سمجھتے ہیں آپ گذشتہ صفحات میں پڑھ چکے ہیں کہ انگریز ہندوستان کو عیسائی بنانے میں کتنے کوشاں تھے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۱۷۳) پھر تمہیں سے کام لیتے ہوئے تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۳۹ کی ایک عبارت پیش کر کے لکھتے ہیں :- ”مرزا صاحب نے دجال کے دعویٰ نبوت میں پادریوں کو اور دعوئی خدائی میں ان کے فرمانرواؤں کو شامل کر کے دجال کو مکمل کر دیا ہے۔“ برق صاحب کی غلط بیانی یہ جناب برق صاحب کی صریح غلط بیانی ہے کہ حضرت اقدس نے دعویٰ خدائی میں انگریزی حکومت کو شامل کر کے دجال قرار دیا ہے۔ذرا حرف محرمانہ سے تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۳۹ کا اقتباس ملاحظہ کریں۔اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ خدائی کا دعویٰ کرنے والے وہ لوگ قرار دیئے گئے ہیں جو ایجاد اور صنعت اور خدا کے کاموں کی کنہ معلوم کرنے میں حریص ہیں اور یہ لوگ اقوام یورپ کے فلاسفر اور سائنسدان ہیں نہ کہ حکومت ہند کے فرمانروا انگریز۔نبوت کا دعویٰ کرنے والے آپ نے ان لوگوں کو قرار دیا ہے جو خدائی کتابوں میں تحریف کرتے ہیں اور مسیح کو خدا ٹھراتے ہیں اور یہ صرف پادری ہی ہیں۔انگریز حکمران خدا کی کتابوں میں تحریف نہیں کرتے تھے وہ تو عوام عیسائیوں کی طرح پادریوں کے دجل کا شکار تھے۔انکو حضرت اقدس نے ہر گز د جال قرار نہیں دیا۔اگر حضرت مسیح موعود کے نزدیک انگریزی حکومت دجال ہوتی تو پھر آپ کیوں انگریزوں اور ان کی سلطنت کی یوں تعریف فرماتے۔