تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 12 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 12

۱۲ عقیدے اختیار کرنے پر عائد ہو سکے۔اس آیت کی موجودگی میں اگر حضرت عیسی کا اصالتا دوبارہ آکر کسر صلیب کرنا تجویز کیا جائے تو پھر ان کا یہ بیان سراسر جھوٹ بن جاتا ہے کہ ترقی کے بعد مجھے قوم میں دوبارہ جانے کا موقعہ ہی نہیں ملا۔یہ لوگ صرف خدا تعالیٰ کی نگرانی میں ہی رہے ہیں۔پس یہ آیت اس بات پر نص صریح ہے کہ حضرت عیسیٰ کی قوم ان کی وفات کے بعد بگڑی ہے۔نیز اس سے بطور اشارۃ القس ان کی دوبارہ آمد کی نفی بھی روزِ روشن کی طرح ثابت ہے۔اگر اس جگہ توقی کے کچھ اور معنی لئے جائیں تو پھر حضرت عیسی کو قیامت کے دن تک زندہ ماننا پڑے گا۔کیونکہ یہ سوال و جواب قیامت کے دن ہو گا۔یہ امر كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ کے خلاف ہے۔حضرت عیسی کی آمد یا عدم آمد کے بارہ میں جناب برق صاحب خود شک میں ہیں مگر تردید کرنے بیٹھے ہیں احمدیت کی۔وہ ہمیں اپنے خط میں لکھتے ہیں :- اگر مسیح نے آتا ہے تو مسیح ہی آئے گا۔اگر نہیں آنا تو کام چل ہی رہا ہے“۔اس سے ظاہر ہے کہ وہ یہ اگر اگر کے الفاظ مصلح اظہارِ شک کیلئے استعمال کر رہے ہیں ورنہ دل سے نہ وہ حیات مسیح کے قائل ہیں اور نہ حضرت عیسی کا دوبارہ آنا مانتے ہیں۔قرآنِ مجید کی مندرجہ بالا آیت سے تو روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ وہ وفات پاچکے ہوئے ہیں۔اور اصالتا دوبارہ نہیں آئیں گے۔پھر سورۃ نور کی آیت استخلاف میں جس خلافت کا وعدہ ہے اس کا تعلق محض مسلمانوں سے ہے نہ کسی پہلے خلیفہ کی آمد سے کیونکہ اس آیت میں اس امت کے خلفاء کو گذشتہ امت کے خلفاء کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔پس کسی پہلے نبی کا اس امت میں آنحضرت ﷺ کا خلیفہ ہو کر آنا ممتنع ہے۔کیوں کہ اس سے مشبہ اور مشبہ بہ کا عین ہو نا لازم آتا ہے۔جو محال ہے۔لہذا حضرت عیسین کامیل تو امت محمدیہ میں خلیفہ ہو سکتا ہے مگر خود حضرت عیسی کے آنحضرت ﷺ کی