تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 211 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 211

۲۱۱ پہلا اعتراض ان کا پہلا اعتراض یہ ہے۔حضرت موسیٰ اور عیسی کے درمیانی زمانے میں ہزار ہا انبیاء مبعوث ہوئے تھے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہزار ہا انبیاء حضرت موسیٰ" کے ظاہری اور روحانی خلیلے تھے یا نہیں؟ اگر تھے اور ظاہر ہے کہ تھے تو پھر سلسلہ موسوی اور محمدی میں مماثلت نا مہ کیسے ہوئی۔وہاں ہزار ہا طلیعے سارے انبیاء اور یہاں کل تیرہ خلیلے۔جن میں سے صرف آخری نبی اور باقی سب امتی۔(حرف محرمانہ صفحہ ۱۲۶۔۱۲۷)۔الجواب 66 اس میں کوئی شک نہیں کہ بنی اسرائیل میں صدہا نبی ہوئے بعض ان میں سے اولوالعزم انبیاء تھے جن کا نام لے کر قرآن کریم میں ذکر بھی آیا ہے۔اور بائیبل کی رو سے بعض ایسے نبی بھی تھے جن کو صرف ملہم ہونے اور پیشگوئی کرنے کی وجہ سے لغت کے وسیع معنوں میں نبی کہہ دیا جاتا تھا اس قسم کے نبی امت محمدیہ میں بھی ہزارہا ہوئے ہیں چنانچہ رسول کریم فرماتے ہیں۔عُلَمَاءُ أُمَّنِي كَانَبِيَاء بَنِي إِسْرَائِيلَ کہ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔اس جگہ علماء سے مراد علماءِ ربانی ہیں۔یعنی امت محمدیہ کے ملہم اور محدث جو ہزاروں ہوئے ہیں چونکہ امتی ایک معنی میں اپنے متبوع نبی کا خلیفہ ہی ہوتا ہے۔لمذا خلیفہ کے ان وسیع معنوں میں وہ ہزار اولیاء آنحضرت ﷺ کے خلفاء ہی ہیں۔گو اصطلاحی معنوں میں یہ سارے خلیفہ نہ تھے۔حضرت مسیح موعود کے نزدیک مجددین کی حدیث إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الأُمِّةِ وَ على رأسِ كُلِّ مَاةٍ سَنَةٍ مَنْ تُحَدِّدُ لَهَا دِينَهَا - (ابو داؤد) کے مطابق ہر صدی کے سر پر آنے والا مجدد آنحضرت نے کا ایک خاص نوع کا خلیفہ ہی ہے۔جو اللہ تعالی کی