تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 203 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 203

قَدْ خَابَ مَنِ افْتَری کے الفاظ میں مفتری علی اللہ کا انجام مختصر نا کامی بیان کیا گیا ہے جس کی تفصیل کچھ تو تقول والی آیت میں بیان ہوئی ہے اور کچھ ولو تَرى إِذِ الظلِمُونَ فِي غَمَرَاتِ المَوتِ (الانعام : ۹۴) والی لو پر بیان کردہ آیت میں اس دوسری آیت میں تو یہ بیان ہوا ہے کہ ان کو مرنے کے بعد بھی عذاب ہو گا۔لَو تَقَوَّل والی آیت میں صرف ان کیلئے دنیا کی سزا بیان ہوئی ہے جو یہ ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ پکڑ کر ان کی رگ جان کائی جائے گی۔پس ان دونوں قسم کی آیات میں در حقیقت کوئی ایسا اختلاف نہیں جس کی وجہ سے لَو تَقولُ والی آیت میں ”رسول کریم“ کے الفائل سے وحی لانے والا فرشتہ مراد لیا جا سکے۔تَقَوَّل کا لفظ تَقَوَّل باب تفعل سے فعل ماضی ہے۔تفعل کا خاصہ تصنع اور بناوٹ بھی ہوتا ہے اس لئے لوتقول علینا بعض الاقاویل کے الفاظ میں کسی شخص کی طرف سے دانستہ جھوٹے قول کو خدا تعالی کی طرف منسوب کرنا مراد ہے نہ کہ نادانستہ۔کیونکہ ایسے مدعیان الهام بھی پائے جا سکتے ہیں جو جنون وغیرہ قسم کے دماغی عوارض کے ماتحت اپنی احادیث النفس کو الہام خیال کر لیں اور اپنے تئیں اس طرح مدعی نبوت کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کرنے لگیں۔ایسے لوگوں کی سزا قطع و تین نہیں ہوتی۔بلکہ ایسے لوگوں کی شناخت صرف اس بات سے ہو جاتی ہے کہ ان کے کام اور کوشش کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلتا۔نہ ان کی زندگی میں اور نہ ان کی زندگی کے بعد کیونکہ وہ کوئی روحانی انقلاب پیدا نہیں کر سکتے بلکہ ان کی تحریک ناکام رہتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- نَ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونِ وَإِنَّ لَكَ لاجرا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ فَسَتَبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ بِايْكُمُ الْمَفْتُونُ - (سورۃ القلم : ۲ تا ۷ ) جب بعض لوگوں نے رسول کریم کو مجنون قرار دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی