تحقیقِ عارفانہ — Page 144
۱۴ ۴ فرماتے رہے کہ مجھے یونس علیہ السلام پر فضلیت نہ دو۔اور مجھے موسی علیہ السلام پر جی مت دو۔لیکن نبوت کے آخری سالوں یعنی شدھ میں جب آیت خاتم النبیین نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ میں تمام انبیاء سے چھ باتوں میں افضل ہوں۔نیز فرمایا اگر مایہ السلام زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سوا چارہ نہ تھا۔اب کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی مسلمان یہ کہہ سکے کہ آنحضرت ﷺ کی بعد کی وحی جس میں آپ کو خاتم النبین قرار دے کر سب انبیاء سے اس خصوصیت میں ممتاز کر دیا گیا اور جس کے نتیجہ یں آپ نے تمام انبیاء سے افضل ہونے کا دعویٰ فرمایا وہ نا قابل اعتماد ہے ؟ اور آپ کا اپنی شان کے متعلق پہلا بیان ہی حجت ہے کہ آپ حضرت موسیٰ اور یونس سے افضل الله نہیں ہیں۔ہر گز نہیں ہر گز نہیں اور ہر گز نہیں۔کوئی مسلمان آنحضرت ﷺ کی بعد کی وحی کو نا قابل اعتماد قرار دینے کی جرات نہیں کر سکتا۔کیونکہ یہ مسلم امر ہے کہ ية خذ من النبي الآخر فالا ھو کہ نبی سے آخری بات کی جاتی ہے۔☆☆☆