تحقیقِ عارفانہ — Page 145
۱۴۵ باب دوم عليه السلام حرف محرمانہ کے دوسرے باب، متعلق مسیح موعود کا جواب برق صاحب نے اپنی کتاب کے دوسرے باب میں مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی پر تنقید اور نکتہ چینی کی ہے جس کا خلاصہ ان کے الفاظ میں ہی یہ ہے کہ :- - کسی مجدد مسیح ابن مریم یا مسیح موعود کے آنے کا ذکر قرآن میں موجود نہیں۔بعض احادیث میں صرف مسیح ابن مریم کے نزول کا ذکر ملتا ہے تو کیا ایسے مسیح پر اگر وہ ابھی جائے تو ایمان لانا ضروری ہے ؟ (حرف محرمانه صفحه ۷۲ ) علماء اسلام جو احادیث جناب مرزا صاحب کے سامنے پیش کرتے تھے ان تمام کا تعلق مسیح ابن مریم اور دجال وغیرہ سے تھا۔اگر یہ تمام احادیث محرف اور موضوع میں تو پھر انسی کی بنا پر آپ کا دعویٰ مسیحیت اور نبوت کیونکر جائز ٹھہر !؟ (ایضاً صفحہ ۷۶) کس حدیث کی بنا پر جناب مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت کیا ہے اس میں مسیح موعود کے آنے کا ذکر نہیں بلکہ مسیح بن مریم کے نزول کا ذکر ہے اگر آپ کو یقین ہے کہ قرآن کی رو سے حضرت مسیح وفات پاچکے ہیں تو لازماً اس حدیث کو غلط قرار دینا ہو گا۔اس حدیث کو لے کر پہلے بصد تکلف مثیل مسیح بنا اور پھر مسیح بن مریم ہونے کا اعلان کرنا اور اس کے بعد اپنے آپ کو مسیح موعود سمجھنا اور آخر میں ایک مستقل رسول ( یہ جناب برقی صاحب کا افترا ہے۔حضرت مرزا صاحب نے مستقل رسول ہونے کا کبھی