تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 134 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 134

قرار دیتے ہیں۔۱۳۴ حضرت مسیح موعود کادعویٰ تشریعی نبوت کا نہیں محترم برق صاحب نے ایک اور عبارت سے بھی جو حضرت عیسی علیہ السلام کے جسده العنصری نزول کے رد میں ہے مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے اس عبارت کے الفاظ یہ ہیں۔”بلاشبہ جس کلام کے ذریعہ سے یہ تمام تفصیلات ان کو معلوم ہوں گی وہ بوجہ وحی رسالت ہونے کے کتاب اللہ کہلائے گی۔“ ( حرف محرمانه صفحه ۶۴ حوالہ ازالہ اوہام جلد ۲ صفحہ ۵۷۹ طبع اول) اس عبارت کے ذریعہ حضرت عیسی علیہ السلام کا اصالتا دوبارہ آنا بد میں وجہ محال ثابت کیا گیا ہے۔کہ اگر وہ اصالتا نازل ہوں تو شریعت محمدیہ کی تمام تفصیلات جب ان کو بذریعہ وحی معلوم ہونگی تو چونکہ وہ بزعم علماء صاحب شریعت رسول تھے۔اس وجہ سے ان پر وحی رسالت ہونے سے وہ تفصیلات کتاب اللہ کہلائیں گی۔اور چونکہ مسلمان قرآن شریف کے بعد کسی کتاب اللہ کے نزول کے تاقیامت قائل نہیں اس لئے ”اسلام“ آجانے کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کی بعثت اصالتا محال ہوئی۔اور اسلامی تعلیم کے خلاف ہوئی۔اس عبارت سے جناب برق صاحب کو یہ کہنے کا حق ہر گز نہیں پہنچتا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ پر امتی نبی کے دعوی کی صورت میں جو وحی نبوت خلفیہ نازل ہوتی تھی وہ انہی معنوں میں وحی رسالت قرار دی جاسکتی ہے۔جن معنوں میں ایک تشریعی نبی کی وحی رسالت کتاب اللہ قرار دی جاسکتی ہے۔کیونکہ حضرت مرزا صاحب نے صفائی سے اپنا عقیدہ یہ بیان کر دیا ہے کہ آپ ہر گز تشریعی نبوت کے مدعی نہیں اور