تحقیقِ عارفانہ — Page 115
۱۱۵ وحدت اوصاف و کمالات ہو تب بھی بات نہیں بنتی۔اور یہ دکھانے کے لئے کہ بات نہیں ہنتی وہ سات باتیں لکھتے ہیں۔ا حضور امی تھے اور مرزا صاحب چھ درجن کتابوں کے مصنف۔۲- وہ عربی تھے اور یہ عجمی۔۳-وہ قریشی تھے اور یہ فارسی النسل۔۴- وہ دنیوی لحاظ سے بے برگ وبے نوا تھے اور یہ زمین و باغات کے مالک۔۵- انہوں نے مدنی زندگی کے دس برس میں سارا جزیرہ عرب زیر نگیں کر لیا تھا۔اور جناب مرزا صاحب جهاد و فتوحات کے قائل ہی نہ تھے۔وہاں قیصر و کسرٹی کے استبداد کو ختم کرنے کا پروگرام اور یہاں انگریزوں کے جابرانہ تسلط کو قائم رکھنے کے منصوبے۔ے۔وہاں اسلام کو آزادی کا مترادف قرار دیا گیا تھا اور یہاں غلامی کا مترادف۔الغرض نہ وحدت جسم و روح کا دعویٰ درست ہے نہ وحدت روحانی و کمالات کا۔تو پھر ہم کیسے باور کر لیں کہ محمد کے عین غلام احمد تھے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۶۲، ۶۳) ان سوالوں کے جواب میں ہم یہ کہنے کے لئے مجبور ہیں کہ۔سخن شناس نه ای دلبر اخطا اینجا است ظلیت کے متعلق حضرت مجددالف ثانی مکتوبات جلد اول مکتوب نمبر ۲۴۸ میں فرماتے ہیں۔کمل تابعانِ انبیاء بجهت کمال متابعت و فرط محبت بلکہ محض عنایئت