تحقیقِ عارفانہ — Page 114
۱۱۴ الجوار حضرت اقدس نہ انبیاء کے برزخی اجسام میں ایک سے زائد ارواح کے موجود ہونے کے قائل ہیں اور نہ تاریخ و حلول کے قائل ہیں۔اس لئے کہ یہ دونوں عقیدے خلاف اسلام ہیں۔ہاں آپ بروز کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔اگر بروز صحیح نہ ہوتا تو پھر آیت و آخَرِينَ مِنْهُمُ میں ایسے موعود کے رفیق آنحضرت ﷺ کے صحابہ کیوں ٹھرتے۔اور نفی بروز سے اس آیت کی تکذیب لازم آتی ہے جسمانی خیال کے لوگوں نے کبھی اس موعود کو حسن کی اولاد بتایا کبھی حسین اور عباس کی۔لیکن آنحضرت ﷺ کا صرف یہ مقصود تھا کہ وہ فرزندوں کی طرح اس کا وارث ہو گا۔اس کے نام کا وارث۔اس کے خلق کا وارث۔اس کے علم کا وارث۔اس کی روحانیت کا وارث اور ہر ایک پہلو سے اپنے اندر اس کی تصویر دکھلائیگا۔اور وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ سب کچھ اس سے لے گا۔اور اس میں فنا ہو کر اس کے چہرے کو دکھائے گا۔پس جیسا کہ ظلمی طور اس کا نام لے گا۔اس کا خلق لے گا۔اُس کا علم لے گا۔ایسا ہی اس کا نبی لقب بھی لے گا۔کیونکہ بروزی تصویر پوری نہیں ہو سکتی۔جب تک یہ تصویر ہر ایک پہلو سے اپنے اصل کے کمال اپنے اندر نہ رکھتی ہو۔پس چونکہ نبوت بھی نبی میں ایک کمال ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ تصویر یروزی میں وہ کمال بھی نمودار ہو۔تمام نبی اس بات کو مانتے چلے آئے ہیں کہ وجود بروزی اپنے اصل کی پوری تصویر (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۱۰۹ طبع اول) ہوتی ہے۔" دوسرا اعتراض چونکہ ظلی نبوت اصل سے ایک رنگ میں عینیت اور اتحاد رکھتی ہے اس لئے محترم برق صاحب نے اس پر یوں اعتراض کیا ہے کہ ”اگر عینیت سے مراد