تحقیقِ عارفانہ — Page 113
ہے اور ے مَن تُو شدم تُو مَن شدی مَن تَن شدم تو جان شدی تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری کا مصداق ہوتا ہے۔رفع اختلاف کی تین صورتیں برق صاحب نے حضرت اقدس کی تحریروں میں مختم نبوت کے متعلق بظاہر اختلاف دکھانے کے بعد ہماری طرف سے رفع اختلاف کی تین صورتیں بیان کر کے ان پر تنقید کی ہے ہماری طرف سے رفع اختلاف کی صورت اول یہ بیان کرتے ہیں کہ " جناب مرزا صاحب حضور کابروز و مظہر تھے۔آپ کی ہستی حضور سے جدا نہیں تھی۔آپ کی صورت میں خود حضور دوبارہ تشریف لائے اور آپ کا دعویٰ ختم نبوت کے منافی نہیں تھا۔“ (حرف محرمانه صفحه ۶۰) برق صاحب کا بروز ظلیت کے دعوئی پر ایک اعتراض جناب برق صاحب ہمارے اس جواب پر جو فی الحقیقت درست ہے تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں ؟ شب معراج کو حضور ﷺ کی ملاقات کئی انبیاء سے ہوئی تھی۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حضرات عالم برزخ میں بقید حیات ہیں۔زندگی روح کا کرشمہ ہے۔اگر انبیاء کرام کی روح خود ان کے برزخی اجسام میں موجود ہے تو پھر جناب مرزا صاحب میں حضور کی روح کہاں سے آگئی تھی۔کیا ایک انسان میں کئی ارواح ہوتی ہیں کہ ایک اپنے پاس رکھ لی اور باقی بانٹ دیں۔آریائی فلسفے کی رو سے تو بروز و او تار کا مسئلہ سمجھ میں آسکتا ہے۔کہ یہ لوگ تاریخ کے قائل ہیں لیکن اسلام کی سیدھی سادھی تعلیم ان پیچیدگیوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔" (حرف محرمانه صفحه ۶۲)