تحقیقِ عارفانہ — Page 96
۹۶ دو کے معنی اظہار امر غیب ہیں۔“ ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵ طبع اول) پھر آپ اشتہار ” ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵ طبع اول“ کے حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں۔یہ ضرور یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پاچکے ہیں۔پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبو تیں اور پیش گوئیاں ہیں۔جن کی رو سے انبیاء نبی کہلاتے رہے۔لیکن قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ پر کرتا ہے جیسا کہ آیت لايُظهر عَلَى غَيْبِهِ أَحَداً إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولِ سے ظاہر ہے پس مصفے غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا اور آیت انعمت عليهم گواہی دیتی ہے کہ اس مصفے غیب سے یہ امت محروم نہیں اور مصفے غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور وہ طریق پر اور است بند ہے اس لئے مانا پڑتا ہے کہ اس موجبت کے لئے محض بروز ظلیت اور فنافی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔“ مندرجہ بالا عبارت سے ظاہر ہے کہ اب آپ کے نزدیک پہلے انبیاء بھی صرف اظہار علی الغیب یعنی امور غیبیہ پانے کی وجہ حسب منطوق آیت لايُظهِرُ عَلى غيه أَحَداً إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ في کہلاتے رہے ہیں۔نہ کہ شریعت جدید و لانے پایر اور است مقام نبوت پانے کی وجہ سے اظہار علی الغیب کا مر تبہ پانے کا امت محمدیہ کو آیت اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں وعدہ دیا گیا ہے۔مگر فرماتے ہیں کہ یہ مرتبہ اب کسی کو بر اور است نہیں مل سکتا۔بلکہ اس کے پانے کے لئے محض بروز ظلیت اور فنافی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔گویا جو نبوت پہلے براہ راست ملتی تھی اب اس کے پانے کے لئے آنحضرت ﷺ کی پیروی شرط ہے۔اس انکشاف پر خاتم النبیین کی آیت کی تفسیر میں آپ نے یہ بھی وضاحت فرما دی کہ۔آنحضرت ﷺ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے۔اور آپ کی توجہ