تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 72
4A میری عمر اس وقت ۸۵ سال ہے۔میں ابتدائے جوانی میں گجرات میں رہتا تھا۔اور اس دقت فرقہ اہل حدیث کا ابتدائی چرچا تھا۔اور پبلک میں اس کی سخت مخالفت تھی۔ان کی باتیں معقول پا کر میں بھی اہل حدیث میں شامل ہو گیا۔ایک دفعہ سیال شریف جاتے ہوئے راستہ میں بھیرہ مولوی سلطان احمد صاحب مرحوم سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے ذکر کیا۔کہ میرا بھائی نورالدین نامہ نکہ میں حدیث پڑھ رہا ہے ایس طرح پہلی دفعہ میں نے حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ خلیفہ اسبح اول کا حال سنا۔پھر جب میں نے سنا کہ مولوی صاحب مکہ سے واپس بھیرہ آگئے ہیں۔تو میں انہیں ملنے کے واسطے گیا۔اور ان کے عقائد اور تحقیقی مسائل سے متفق ہو کر ایک نرمان کے پاس رہا۔اور پھر ان کے ساتھ ہی جموں آگیا۔جب حضرت مرزا صاحب کی خبر ملی۔ان کی ملاقات کے واسطے قادیان گیا۔ایک عرصہ رہا۔جب حضرت مرز اصاحب نے بیت لینی شروع کی۔تو میں نے بھی بیعت کرنی چاہی۔مگر حضرت مولوی نور الدین صاحب نے فرمایا۔کہ ہمارا داماد عبد الواحد ر پسر مولوی عبید اللہ صاحب غزنوی شم امرت سری کو پہلے سمجھانا ضروری ہے۔وہ بعیت کرنے والوں کی بات کو نہ سنے گا۔تم ابھی بیعت نہ کرو۔اور اسے سمجھاؤ۔میں اسے کھاتا رہا۔مگر اس نے نہ مانا۔اور جب حضرت مسیح موجود دھلی سے واپس آئے۔تو میں نے بیعت کرلی۔اس وقت کتاب نشان آسمانی | لکھی گئی تھی۔جب کشمیر میں ایک دفعہ سخت مہینہ ہوا۔اس وقت میں سرینگر