تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ

by Other Authors

Page 32 of 187

تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 32

اس البتہ اس مقام پر جتنا کھا دے۔کھا دے۔استعمال کرے۔اس پر کوئی گرفت نہیں۔اور نیز یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ہمارے قدیم آباؤ اجداد کی یاد بھی پیسے کا ہے۔حتی کہ اسلام کی آمد سے بھی پہلے کی یادگار ہے اب ان لوگوں کے اولاد بنی اسرائیل ہونے میں تو کوئی شک کی گنجائش نہیں۔کیونکہ اب بھی پٹھانوں کے بزرگوں کا متفقہ دعوی ہے۔کہ ہم لوگ بنی اسرائیل ہیں۔اور میں نے خود اپنی کتاب زیر استات میں اپنے چشم دید حالات اور علامات علاقہ شام اور فلسطین کے بنی اسرائیل اور یہاں کے پٹھانوں کے متعلق لکھے ہیں۔جن میں نہ صرف جغرافیائی ملکی مشابہت اور دیہاتوں اور پہاڑوں کے نام بلکہ ان کے بعض قومی مراسم اب تک یکساں طور پر پچھلے آتے ہیں۔خیر اس پر تو یہاں بحث نہیں۔پس جب یہ ثابت شدہ امر ہے۔کہ یہ لوگ بنی سرائیل ہیں۔اور یہ کہ بر یادگار اسلام آنے سے پیشتر کی ہے۔تو اسلام سے پہلے یہاں بدھ ازما اور یا بنی اسرائیل کی یہودیت T تھی۔بدھ ازم سے تو اس نام کا کوئی تعلق نہیں۔اب بچہ یو میں یو یوسف کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔کیونکہ یو پشتو میں ایک کو ا در یک فارسی میں ایک کو کہتے ہیں۔اور مغلوں کے زمانے میں فارسی اس قدر عالمگیر زبان تھی۔کہ انگریزی بھی آجکل اتنی اس ملک میں مہنہ نہیں۔اس شده بر ر لفظ کو اپنی فارسی میں ہی ادا کرتے رہے ہیں بالکل ممکن۔ہے۔کہ یہ لفظ یو یوسف" سے ہی بکہ یوسف" بن لیا ہو۔جو در اصل یوز یوسف مسل یوز یوسف یا یو نہ آس ہی ہے۔اور یہ تمام بلحاظ ماحول اور کیفیت اس قدر اچنیا ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے کسی