تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ

by Other Authors

Page 33 of 187

تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 33

۳۲ معمولی آدمی یا بزرگ کا ہرگز نہیں ہو سکتا۔جس کا یوز یوسف یا یوں مام ہو۔بلکہ یہ تمام اطراف کا ارفع ترین مقام ہے۔جہاں سے لے یوسف زئی۔بنیر اور دریائے سندھ سے پار ہزارہ کا غان اور مہابن تک اور دوسری طرف علاقہ مثبت نگر اور مہمند کا علاقہ نظر آتا ہے۔اور جہاں سے معلوم ہو سکتا ہے۔کہ اس ملک میں آبادی کہاں کہاں تک پھیلی ہوئی ہے۔پس بہت ممکن در قرین قیاس یہ امر ہے۔کہ جب تمام نسلیں اس ملک میں بنی اسرائیل کی پھیلی ہوتی ہیں۔اور حضرت مسیح علیہ اسلام ناصری اور رسوگا الی بنی اسرائیل کی تشریف آوری کا انگریان اس زمانہ میں خدا تعالے کے مامور کے ذریعہ نیز تاریخی شہادات اودر عقلی نفتی واقعات کی بناء پر بین طور پر ہوا۔تو اس میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔کہ آپ ان اقوام کی طرف بھی ضرور آئے ہوں گے اور بنی اسرائیل کے ان مقتند ر اقوام میں آپ کو اس سے زیادہ موزوں مقام کوئی نظر نہیں آیا۔جہاں سے آپ تمام گرد و نواح میں بنی اسرائیل کی کھوئی بھیڑیں اور ان کی آبادی وغیرہ کا پتہ لگا سکیں پس یہاں سے آپ نے تمام علاقہ کا ریویو کیا۔اور یہاں چند عرصہ ٹھہر کر پھر کشمیر کا رخ کیا۔اور یہاں ان کے معتقدین نے ان کی یادگار میں یہ مقام بنا کر اس پر ان کا نام نہ کھا لیا۔جو آجنگ۔مشہور ہے۔میں نے بھی اس بارہ نکما حقہ تحقیقات نہیں کیا۔بلکہ یہاں کے سرسری حالات اور واقعات جو ان لوگوں میں مشہو یہ ہیں۔ان کی بناء پر یہ حالات لکھتے ہیں۔بہت ممکن ہے۔کہ مزید تحقیقات