تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 23
دو چشمے ہیں۔اور ہندو کے راج کے اثر کے ماتحت وہاں ایک مندر بنا دیا گیا ہے۔چند پجاری وہاں رہتے ہیں۔جن کو غالبا ریاست سے تنخواہ ملتی ہے۔ان پجاریوں کا بیان ہے کہ یہ چشمہ اور شہر بہت پرانا ہے۔اس کو گیت گنگا بھی کہتے ہیں۔گیت کے معنے غائب اور مخفی راز کے ہیں۔اور گنگا کے معنے ہیں پانی۔چونکہ معلوم نہیں کہ یہ پانی کہاں سے آتا ہے۔اس واسطے اس کا نامہ یہ ہو گیا۔اس مقامہ کو نشہ پیر بھی کہتے ہیں۔بقول بیچاریوں کے بعشہ بیعنے خدا اور برہ بھنے بانو ہے یعنے خدا کا باغ۔قدیم زمانہ میں لوگ دُور دُور سے یہاں آتے تھے۔اور اس جگہ آخری دم گزارتے اور مرنے کو جنت میں داخل ہونے کا ذریعہ خیال کرتے تھے۔اور وہاں قریب میں ایک غار ہوا کرتی تھی۔جس میں پیل کر اندر ہی اندر انسان چار دن میں چین پہونچ سکتا تھا ایسی کئی ایک تاریں کشمیر کے پہاڑوں میں ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے۔کہ کسی قدیم زمانہ میں یہ غاریں کشمیر کو دوسرے ممالک سے ساتھ ملا دینے کے واسطے بنائی گئی تھیں۔ایک خار کی نسبت مشہور کشمیر کو جمہوں سے ملاتی ہے۔شرمین جیسے کے نام پیر ایک ہے۔نہایت قدیم متبرک شہر کا ہونا اپنے اندر بہت سے مطالب مخفی رکھنا ہے۔کتاب راج ترنگنی ہیں اس مقام کے متبرک ہونے اور اس کے ارد گرد کسی زمانہ میں بہت سے معید ہونے اور ایک بڑا شہر آباد ہونے کا مفصل ذکر ہے۔جس سے اس کی عظمت ظاہر ہے۔اس گاؤں کے قرب وجوار میں اب بھی آثار قدیمہ کے بہت سے کھنڈرات پائے جاتے ہیں :