تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 156
یسوع کا نام بھی چھوڑ کر یوز آسعت کا نام اختیار کیا گیا۔غرض تھوما کی قبر میلا پور اور پرانے عیسائیوں کی ایک جماعت اور تھوما کا پنجاب کی طرف آنا۔اور تھوما کو مسیح کے زبانی فرمان کے مطابق جنوبی سند کے یہود وغیرہ کے پاس جانا یہ سب باتیں بحیثیت مجموعی اس امر کی تائید کر تی ہیں۔کہ حضرت جیسے علیہ السلام ہندوستان میں کہتی لائے تشریف تیسرا نتیجہ جوان بیانات اور واقعات سے نکلتا ہے۔وہ یہ ہے کہ ابتدائی زمانہ کے عیسائی توحید پر قائم تھے۔حضرت مسیح کو ایک انسان بنی اللہ مانتے تھے۔خدا نہ سمجھتے تھے۔بتوں اور تصویروں سے متنفر تھے کوئی کتاب انجیل دینخیرہ رکھنا ضروری نہ جانتے تھے۔دعا صرف خدا سے مانگتے تھے۔اور یہی اصلی اور صحیح مذہب حضرت جیسے اور اس کے حوالہ بیوں کا تھا۔اس سے قرآن شریعت کی اس آیت کی تصدیق ہوتی ہے۔وقال المسيح يبنى اسرائيل اعبدوالله ربي و فسکم سیح نے بنی اسرائیل کو کہا۔کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے آجکل کے عیسائی پادری اسلام پر اعتراض کیا کرتے ہیں۔کہ اسلام نے حضرت عیسی کی طرف توحید کی تعلیم دنیا منسوب کیا ہے۔حالانکہ اس نے تثلیث سکھائی تھی۔گو تثلیث کا مسلہ مروجہ انا بیل سے بھی ثابت نہیں ہوتا۔مگر تھو نا حواری کے قدیم عیسائیوں کی تاریخ اس امر پر بہت ہی صاف روشنی ڈالتی ہے۔کہ حضرت مسیح اور اس کے حواری اور ابتدائی زمانوں کے عیسائی سبب موحد اور خدا پرست تھے۔وہ موجودہ انا جیل بھی اپنے پاس نہ رکھتے تھے۔سفو طرہ ایک جزیرہ مغرب کے قریب ہے۔وہاں