تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ

by Other Authors

Page 149 of 187

تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 149

۱۴ " حاصل کرنے میں بہت ذہین اور ہوشیار ہیں۔اور تعجب نہیں کہ حضرت مسیح خود بھی دوران سکونت کشمیر میں یا اس سے قبل کبھی مدراس بھی گئے ہوں۔جیسا کہ ایک زبانی روایت سے ہم کو معلوم ہوا ہے۔غرض یہ بات کہ تھو نا پہلے پنجاب میں آیا تھا۔اور بھی زیادہ ہماری رائے کی تصدیق کرتی ہے۔کہ حضرت مسیح علیہ السلام خود بھی پنجاب ہے ہو کہ کشمیر کو گئے تھے۔حال میں بعد سکتے گونڈو فارس با دشاہ کے مضلع گورداسپور میں ملے ہیں۔جن سے قیاس کیا گیا ہے۔کہ وہ بادشاہ کہیں اس طرف ہی تھا۔اور تھو ما یہاں ہی تھا۔یہ بات بھی صحیح معلوم ہوتی ہے۔اور گونڈ : فارس کا لفظ بھی لفظ گورداسپور سے بہت ملتا ہے۔اور یہ کچھ تعجب کی بات نہیں۔کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہ بات بذریعہ کشف معلوم ہوئی ہو۔کہ ان کا آخری زمانہ میں بروز اور روحانی ہم نام اسی جگہ پیدا ہونے والا ہے۔اس واسطے وہ اس جگہ خود تشریف لائے اور پھر اپنی جائے پیدائش کے مطابق آب و ہوا کا مقام اس کے قریب ہی کشمیر میں پا کر وہیں اپنا مرکز بنا لیا۔دکن میں جہاں بڑی سیتی دیسی عیسائیوں نے اپنے لئے بنائی تھی۔اس کا نام قائلان تھا رسفر نامہ مار کو پو لو۔یول ایڈیشن جلد ۲ صفحه ۱۲ ۳) جو لفظ معلوم ہوتا ہے کہ قادیان سے بگڑ کر بنا ہے۔کیونکہ آخر وہ مسلمان تھے۔نیک بندے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان پہ نہ دل سمیح کا مقام قادیان ظاہر کیا ہو گا۔اور اسی کی محبت پر انہوں نے اپنی بستی کا نام بھی قادیان نہ کھا۔جو مرور زمانہ سے بگڑ کر قاتلان رہ گیا۔بس تھوما کا پنجاب میں آنا ضرور تھا۔اور یہ در اصلی حضرت مسیح