تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 150
۱۴۹ اور ان کی ماں کی ملاقات کے واسطے تھا۔بعد میں جو علاقہ تبلیغ کے پہلے ان کے سپرد کیا گیا۔: ہاں وہ تشریف لے گئے۔کتاب اعمال تھورا سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی تھی۔کیونکہ اس میں لکھا ہے۔کہ تھو ما گونڈو ڈر سے مس ڈس چلا گیا۔معلوم ہوتا ہے۔کہ یہی لفظ مسٹر میں رفته رفته مدراس بن گیا ہے۔یا مادر اس سے فسر اس بیتا ہے۔ہر دور صور تقول میں یہ ظاہر ہے کہ تھورا خواری عاجز راقم کی طرح گورداسپور سے مدراس گئے۔دوسر کی بات اختیارات کی یہ ہے۔کہ سندوستان کو آنیوالے حواری بار تھو لومیا کھتے۔ہم کہتے ہیں۔کہ ہار تھولد مینا کا آنا۔کھونا کے آنے کے بنانی نہیں ہو سکتا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود کے ایک خادم چوندی فتح محمد صاحب ولایت گئے تھے۔تو اس سے یہ دلیل نہیں پکڑی جاسکتی کہ قاضی عبد اللہ صاحب ولایت نہیں کیا۔بلکہ جیسا کہ بعض مورخین کی راستے ہے۔تھورا اور اس کے بعد بار مقوله میو ہر دو صاحبان مهدوستان تشریف لائے اور مرقس نے بھی اپنے ایلچی بھیجے اور ممکن ہے کہ بعض دیگر حواری بھی آئے ہوں۔یا انہوں نے اپنے آدمی اس طرف روانہ کئے ہوں۔کیونکہ خود حضرت علیے یہاں موجود تھے۔اور حضرت کے مشیل اور بروز سیبی اسی ملک میں آنے والے تھے۔جس پر سلام پہونچانے کی رعیت حضرت خاتم النبیین صلے اللہ علیہ وسلم نے کی تھی کیسے