تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 6
4 کو وحی کے ذریعہ اللہ تعالے کی طرف سے خبر دی گئی تھی۔کہ حضرت مسیح شمیر میں ہے۔اس کے متعلق کوئی وحی یا الہام تو مجھے ملا نہیں۔جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ابتداء اس کی یوں ہوئی۔کہ ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام مکس میں بیٹھے تھے۔آپ نے فرمایا۔کہ میں آیت کریمہ وادیھما الى ربوة ذات قرار معین پر غور کر رہا تھا۔اور اس پر غور کرتے ہوئے مجھے ایسا معلوم ہوا کہ گویا وہ مقام ایسا ہے۔جیسے کشمیر اس پر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ میں نے دوران قیام کشمیر میں سُنا تھا کہ یہاں ایک قبر ہے۔جیسے جیسے کی قبر کہتے ہیں۔اور یہ بات مجھے خلیفہ نور الدین صاحب نے بتائی تھی۔جو اپنی ڈیوٹی کے سلسلہ میں سارے شہر کا گشت کیا کرتے تھے۔اور کہ بعض لوگ اُسے بہن کا ر چینہ اور بعض شہزادہ نبی کا روضہ کہتے ہیں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام نے خلیفہ نورالدین صاحب رویکھو فوٹو عند کو جموں سے ہلایا۔اور آپ کو حکم دیا۔کہ سری نگر جا کر اس کے متعلقی مکمل تحقیقات کریں۔چنانچہ خلیفہ صاحب وہاں گئے۔اور کچھ ماہ دیاں ر ہے۔اس عرصہ میں انہوں نے وہاں کے بڑے بڑے علماء سے دستخط کرالئے۔کہ یہاں یہ خبر جیسے کی قبر مشہور ہے۔اور بعض لوگوں نے اس کی تائید میں بعض قلمی کتابوں سے بھی شہاد میں پیشیں کیں۔اس وقت کشمیری لوگ صاف کہہ دیتے تھے۔کہ یہ کس کی قبر ہے۔مگر بعد میں پنجاب کے مولویوں نے جا کر ان کو اس سے روکا۔اور منع کیا۔کہ ایسا مت کہا کرو چنانچہ اب اگر کوئی وہاں جا کر دریافت کرے۔تو وہ عیسے کی قبر نہیں کہتے بلکہ نبی صاحب کی یا بوز آسف کی قبر کہتے ہیں۔چنانچہ حضرت خلیفہ