تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 2
تلخ پیالہ کو پیار اور پھر اپنی قوم کی گم شدہ بھیڑوں کی تلاش میں ڈور دراز کے صعباک سفروں کو برداشت کرتا ہوا اس زمین میں پہونچا۔جس کے متعلق اللہ تعالے نے فرمایا۔کہ ہم نے مسیح اور اس کی مان کو ایک ایسے اُونچے مقام پر پناہ دی جہاں ٹھہرنے کی جنگ ہے۔اور جینے جاری ہیں۔میں خیال کرتا ہوں کہ مسیح ناصری کا ہندوستان میں آنا اس واسطے بھی ضروری ہوا۔کہ اس کا مثیل بھی حکمت خداوندی سے اسی ملک میں آنے والا تھا۔پس یہ ایک روحانی کشش تھی۔جو اُسے ملک فلسطین سے ملک ہند کی طرف کھینچ لائی۔اور شہر سرینگر کے محلہ خانیار میں اس کا دائمی آرامگاہ بنا۔بارك الله له و نور مرقده۔یہ ایسا ہی راز ہے۔جیسا کہ آیت کہ آیت شریفہ سيحن الذي اسرى بعبده يلاً من المسجد الحرام إلى المسجد الاقصی میں حضرت سرور عالم عالم النبيين محمد صلے اللہ علیہ وسلم کے کامل بروزہ کا مشرقی ملا د میں ظاہر ہوتا مضمر ہے - ناجہ راقم کی عادت سے یہ خواہش تھی کہ کشمیر جا کر قبر جیسے کے متعلق مزید تحقیقات کی کیا دے - ۱۹۲۹ ء میں بھی عاجز اسی غرض کے واسطے کشمیر گیا۔اور وہاں تحقیقات کا کام شروع کیا۔مگر مینوز و ست کھیں پورے نہ ہونے پائے تھے۔کہ اپنی مرحومہ بی بی امام بی بی کے سخت - ا بیمار ہو جانے کی تار شہر پہونچنے پر واپس آنا پڑا۔مرحومہ نے ایک لمبی با علالت کے بعد ۱۹۲۶ میں وفات پائی۔اور مقبر بہشتی میں جگہ حاصل