تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 80
اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنایا مینی آپ کو افاضہ کمال کے لیے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبین مٹہرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی تو خیر روحانی نبی ترانش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی یا لے نیز حضرت خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی اور باطنی حسن و جمال سے متاثر ہو کر فرمایا : فدا شد در ریش هر ذره من که دیدم حسن پنهان محمد دگر استاد را نامی ندانم که خواندم در دبستان محمد دریس ره گهر کشندم در سوزند نتائم و از ایوان محمد ترجمہ : میرا ہر ذرہ حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں قربان ہے کیونکہ میں نے آنحضرت کے پوشیدہ حسن کو دیکھ لیا ہے، میں کسی اور استاد کا نام نہیں جانتا کیونکہ میں تو صرف محمد مصطفی کے مدرسہ میں پڑھا ہوں ، اس راہ میں خواہ مجھے قتل کیا جائے ، یا کلا دیا جائے میں محمد کی بارگاہ سے ہرگزنہ منہ نہیں پھیروں گا۔لا دینی فلسفوں اور ملحدانہ تحریکوں سے گھری ہوئی موجودہ دنیا کو یہ یقین دلانا مکن نہیں تھا کہ تمام پہلے انبیا۔بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت سے مستفیض ہوتے ہیں دوستر نبیوں کے فیوض ختم ہو چکے ہیں اور اب ارض و سما میں آپ ہی کا فیض جاندی ہے اور یہ کہ آنحضرت کا یہ ارشاد مبارک واقعی اپنے اندر صداقت رکھتا ہے کہ لو کان موسیٰ و عیسی حَيَّين ما وسعهما الا اتباعي ؟ " یعنی اس زمانہ میں رحضرت موسیٰ و علی علیهما السلام بھی اگر زندہ ہوتے تو میری پیروی حقیقة الوحی (حاشیہ) ص ۹۷ کے آئینہ کمالات اسلام طبع اول (تتمہ ) ابن کثیر بر حاشیه فتح البیان جلد ۲ ص ۲۴۶ طبع اول شده شرح فقہ اکبر از امام حضرت علی القاری ص ۱۱۲ مطبوعہ مصر الیواقیت والجواهر جلد ۲ ص ۲۲ صبحت ۳۲