تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 57
۵۷ تیسری صدی ہجری کے مهبط الوجی اور مذہب امامیہ کے قدیم ترین مفتر الشیخ الشقه حضرت علامہ ابوالحسن علی بن ابراہیم باشم العتی دمتونی شاہ) فرماتے ہیں کہ : اغْتَرَنَ رَبُّنا عَزْ و جَلَّ غُرنَةٌ بِيَمِينِهِ من الماء فقال منك۔اخلق النبيين والمرسلين وعبادي الصالحين والائمه المهتدين والدعاة إلى الجنة واتباعهم إلى يوم القيامة ولا أبالى - له ترجمہ: ہمارے رب عز وجل نے اپنے ہا تھ میں پانی کا ایک چکو لیا اور اس سے فرمایا میں تجھ سے نبی ، رسول ، نیک بندے، ہدایت یافته امام ، داعیان جنت اور ان کے اتباع قیامت تک پیدا کرتا رہوں گا اور کسی کی پروا نہیں کروں گا۔چوتھی صدی ہجری کے مشہور مفتر و مجتهد حضرت الشیخ ابو جعفر بن ابو العتی (ستونی ) فرماتے ہیں : ۹۴۲ " فالهداةاً من الانبياء والأوصياء لا يجوز انقطا ا لا يجوز انقطاعهم ما دام التكليف من اللهِ عَزَّ وَجَلَ لازما للعبادة ترجمہ : جب تک بندے اللہ تعالیٰ کے احکام کے مکلف میں تب تک ہدایت کی طرف راہنمائی کرنے والے انبیاء اور اوصیا ت کا انقطاع جائز نہیں۔پانچویں صدی ھجری کے امام لغت حضرت امام راغب اصفهانی دستوقی کا قول ہے کہ : " ممن انعم عليهم من الفرق الأربع فى المنزِلَةِ والثوابِ النبى بالنبى والصديق بالصديق والشهيد بالشهيد ت والصالح بالصالح۔ترجمہ: اللہ تعالیٰ اُمت کے ان چار گروہوں کو درجہ اور ثواب میں منعمین میں شامل کر دیگا، یعنی نبی کو نبی کیسا تھے ، صدیق کو صدیق کیساتھ ، شہید کو شہید کیساتھ اور صالح کو صالح کیسا تھے۔تفسیر قمی ص ۳۳ مطبوعه ایران نه اکمال الدین ص ۳۷۵ البحر المحیط " حضرت محمد بن يوسف الحيان الغرناطي الاندلسی جلد ۳ ص ۲۸۷ مطبوعہ طبع سعادت مصر ۵۵۰۲ r