تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف

by Other Authors

Page 51 of 86

تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 51

01 سیزدهم : بیبی مسلک گزشتہ صدی تک بالاتفاق تمام علمائے اہل سنت کا تھا چنانچہ مولانا عبدالحی فرماتے ہیں : گلمار اہل سنت بھی اس امر کی تصریح کرتے ہیں کہ آنحضرت کے عصر میں کوئی نبی صاحب شروع جدید نہیں ہو سکتا اور نبوت آپ کی عام ہے اور جو نبی آپ کے ہم عصر ہو گا وہ تبع شریعت محمدیہ کا ہو گائے نے ان سوالوں سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر مشروط آخری نبی ہونے کا ہو تخیل انیسویں صدی کے بعد پیدا ہوا اس کا گزشتہ تیرہ صدیوں کی اسلامی تاریخ میں قطعاً کوئی نام ونشان نہیں ملتا، بلکہ حق یہ ہے کہ قدیم مسلمان بزرگوں ، ولیوں قطبوں اور مجد دوی اور غوثوں میں سے کسی نے یہ اصطلاح کبھی استعمال ہی نہیں فرمائی ، یہی نہیں خیر القرون کے نامور صوفی حضرت ابو عبدالله حمد بن علی حسین الحکیم الترندی (متوفی نشسته) نے نو ہزار برس پہلے یہاں تک فرما دیا تھا کہ يظنُّ أنَّ خاتم النبيين تَأْوِيلُه انه آخِرُهُم مَبْعثًا نَاتٌ منقبة فى هذا ؟ دائى علم فى هذا ؛ هَذا تَأْوِيل البُلْهِ الجَهْلةِ ترجمہ: خاتم النبیین کی یہ تاویل کہ آپ مبعوث ہونے کے اعتبار سے آخری نبی میں بھلا اس میں آپ کی کیا فضلیت دشان ہے ؟ اور اس میں کون سی علمی بات ہے ، یہ تو محض احمقوں اور جاہلوں کی تاویل ہے۔اسی نقطہ نگاہ کی بازگشت ہمیں تیرھویں صدی ہجری میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی دستونی شاہ) کے افکار و خیالات میں سنائی دیتی ہے جنہوں نے عوام کا ذکر کر کے فرما یا کہ : 46 له " مجموعه فتادی مولوی عبدالحی " جلد اول ص ۱۴۴ مطبع یوسفی لکھنو ١٣٣ کتاب ختم الاولياء " از حضرت شیخ ابی عبد الله محمد بن علی حسین الحکیم الترندی ص ۳۴۱