تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 48
3 ۴۸ حدیث من حفظ القرآن الو سے بھی ہوتی ہے جس کے معنی یہ ہیں حسین نے قرآن حفظ کر لیا اس کے دونوں پہلوؤں سے بلاشبہ نبوت داخل ہوگئی اور آنحضرت کے قول مبارک لانبی بعدی دلا رسول سے مراد صرف یہ ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو نئی شریعیت لے کر آئے " نیز فرماتے ہیں : ہے | علَمُ أَنَّ النبوة لم ترتفع مُطلَقاً بعد محمد صلى الله عليه وسلم وانما ارتفع نُبُوةُ التشريع فقط فقوله صلى الله عليه وسلم لا نبى بعدى ولا رسول بعدى أى ماثم من يشرع بعدى شريعة خاصة نهو مثل قوله صلى الله عليه وسلم اذا اهلك کسری فلا كسرى بعدها وإذا هلك قيصر فلا قيصر بعدها له ترجمہ : یاد رکھو کہ آنحضرت کے بعد مطلق نبوت نہیں اٹھی صرف تشریعی نبوت اٹھی ہے پس آنحضرت صلعم کے فرمان لا نبی بعدی ولا رسول کا مطلب یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی شریعیت خاصہ لیکر نہیں آئے گا یہ حدیث حضور کے اس قول کی مانند ہے کہ جب کسری ہلاک ہو جائے گا تو اور کوئی کسری نہیں ہوگا اور جب قیصر مرجائے گا تو اور کوئی قیصر نہیں ہوگا۔هفتم : عالم ربانی حضرت سید عبدالکریم جیلانی (متونی ) فرماتے ہیں کہ :- ہ انقَطَعَ حُكمُ نُبُوةِ التَّشْرِيع بعده ترجمہ: آنحضرت کے بعد تشریعی نبوت کا حکم منقطع ہوگیا ہے۔1164 ہشتم : حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی استونی ) اپنا عقیده و مسلک بایں الفاظ بیان فرماتے ہیں :- ه ( فَعَلِمْنَا بِقَولِهِ عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلَام لانى بَعْدِى وَلَا رَسُولَ اَن الو قد انقَطَعتُ والرّسَالَةَ إِنَّمَا يُرِيدُ بِهَا التَّشْرِيعَ : ٣ ۱۳۵۱ الیواقیت والجواہر جلد ۲ ص ۳۹ مطبوعہ مصر راه انسان کامل ج نمبر اص ۱۶۹ عارف ربانی حضرت عبدالکریم جیلانی مطبوعہ قاہرہ لاء " قرة العينين في تفضيل التخين من ٣١٩ مطبع مجتبائی دہلی ملا ص