تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف

by Other Authors

Page 31 of 86

تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 31

I حضرت یوسف الصالحي الشافی رمتونی تم نے سبل الهدی والرشاد" میں لکھا ہے۔" ويصح أن يكون صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُمِّي فَاتِها لِأَنَّه فتح الرسل بمعنى أنَّه اوتُهُمْ فِي الْخَلْقِ اونا تيح الشفعاءِ بِقَرِينَةِ اقترانه باسمه الخاتم : ✓ " ترجمہ : یہ بھی صحیح ہے کہ آنحضرت صلیاللہ علیہ وسلم کو اس وجہ سے فاتح کے نام سے موسوم کیا گیا ہے کہ آپ نے ہی رسولوں کا دروازہ کھولا ہے مطلب یہ کہ آپ ہی پیدائش میں سب سے اول تھے دوسرے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اسم خاتم کے قرینہ سے آئندہ آنیوالے شفیعوں کے لیے دروازہ کھولنے والے ہیں۔کمالات نبوت کا جامع امام السند حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (متوئی شاہ فرماتے ہیں : تَبَحْرَ فِي الكَمَا لَاتِ وَحْكم العبوة : " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کمالات کا سمندر ہونے کی بناء پر نبوت کے خاتم ہیں۔دوسری جگہ فرماتے ہیں : فتم به النبيون أنى لا يُوجَدُ مَنْ يَا مُرُه الله سُبْحَانَه بالتشريع عَلَى النَّاسِ : سے یعنی آپ شریعیت لانے میں آخری نبی میں کوئی نئی شریعیت لانے والا نبی آپ کے بعد نہیں پا یا جائے گا۔مزید فرماتے ہیں : " لان النبوة تتجرى وَجُزْءٌ مِنْهَا بِاقٍ بَعْدَ خَاتَمِ الأَنْبِيَاءِ " " " نبوت کے حصے ہیں اور ایک حصہ نبوت کا حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بانی ہے دیہ حصہ غیر تشریعی نبوت کا ہی ہو سکتا ہے جو صرف آنحضرت کے امتی کو ہی ل سبل الهدى والرشاد ص ۶۱۱ (محمد بن یوسف الصالحي الشامی جز اول مطبوعہ قاہرہ ۱۳۹۲ الخیر الکثیر مترجم ص ۲۳۸ ناشر قرآن محل کراچی سے تفہیمات الہیہ جلد ۲ ص ۷۲ - ۷۳ المستوى شرح الموطا جلد ۲ ص ۴۲۶ مطبعہ السلفیه مگه ۳۵۳