تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 30
حضرت بانی جماعت احمدیہ نے بھی ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۳۳ میں اسی جہت سے جملہ انبیاء علیہم السلام کو آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کا امتی ہی قرار دیا ہے، لیکن آپ ان نبیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کال اکتی نہیں جانتے۔کامل امتی کی تعریف آپ کے نزدیک یہ ہے کہ وہ شخص شرعیت محمدیہ کاملہ کی پیروی کی شرط کے ساتھ امتی بنے۔انبیاء سابقین ان معنی میں امتی نہیں اس لیے آپ نے ان انبیاء کو منتقل یا براہ راست نبی لکھا ہے۔پہلے فیض کو بند اور نئے کمالات کو جاری کر نیوالا نہیں یہ لطیف معنی حضرت سید نا علی المرتضیٰ اسد الله الغالب (شہادت ۲۰ رمضان نشتہ کے ہیں جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مخاطب کر کے فرمایا : ـه انا خاتم الأنبياءِ وَانتَ يا عَلَى خَاتَمُ الأولياء " ترجمہ : میں تما تم الانبیاء ہوں اور اسے علی تم نما تم الاولیا نہ ہوا رافسوس تفسیر صافی کے نئے ایڈیشن میں خاتم الاوصیاء" لکھ دیا گیا ہے) ہر کیف خاتم اللہ لیا۔" حضرت علی المرتضیٰ فرماتے ہیں : الحاقية يمَا سَبَقَ والفاتح لِمَا أَنغَلَقَ : له ترجمه: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ماسبق کے خاتم اور جو کمالات پیٹے نہیں مل سکے تھے اُن کے کھولنے والے ہیں۔مثنوی حضرت مولانا روحم دفتر ششم میں ہے۔ختم ہائے کا بیا بگذاشتند آن بدین احمدی برداشتند جوهری گذشتہ انبیاء علیہم السلام نے لگی ہوئی چھوڑ دی تھیں وہ دین احمدی کی بدولت اٹھا دی گئیں۔تفلماتے ناگشاده مانده بود از کفت انا فتحنا برگشوده اسرار و رموز کے بہت سے قفل بے کھلے رہ گئے تھے جو صاحب انا فتحنا کے دست مبارک سے کھل گئے۔شیخ البلاغه درق ۱۹ مرتبہ حضرت الشريف المرتضیٰ متولی ٣ شتوی دفتر ششم ( مفتاح العلوم ) جلد ۱۵ ص ۵۲ ۵۵ شرح مثنوی مولانا روم نار شیخ غلامعلی اینڈ سنز لاہور