تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 29
۲۹ کے ازل سے موجود ہونے کا ذکر ہے دو علمی بود بھی مراد ہوسکتا ہے کیونکہ آنحضرت اپنی شان میں دوسرے تمام نبیوں سے بالکل مختلف اور منفرد تھے آپ کی نبوت خاتم النبیین کے بلند مقام کی حال تھی اور باقی انبیا ہ کی نبوتیں آپ کے عدت غائیہ ہونے کے فیض سے فیضیاب جو غنی - ۵۔نبیوں کے نبی حضرت امام تقی الدین سبکی دمتونی شکستہ فرماتے ہیں سبكل ی » يَكُون نبوتُه وَرِسَالَتُه عامة لجَمِيعِ الخَلَقَ مِنْ زَمَنِ آدَمَ احمه إلى يوم القيامة ويكون الأنبياء و ا م م ه م م م مِن أمناء وأ فالنبي صلعم نبي الانبياء الله " ترجمه انضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت ساری مخلوقات کے لیے ہے اور : آدم کے زمانہ سے دیگر قیامت تک ہے اور سب نبی اور ان کی اُمتیں امانت کی امت میں داخل ہیں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وکم نبیوں کے بھی نبی ہیں۔حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی (متوئی 21 ) تحریر فرماتے ہیں کہ :- اوروں کی نبوت آپ کا فیض ہے پر آپ کی نبوت کسی اور کا فیض نہیں۔آپ پر سلسلہ نبوت مختم ہو جاتا ہے۔غرض جیسے آپ نبی الا قمت ہیں ویسے ہی نبی الانبیا ر ہیں " سے ۱۲۹۷ آپ کا یہ جامع شعر اسی حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے۔جو انبیاء ہیں وہ آگے تیری نبوت کے کریں ہیں، اُمتی ہونے کا یا نبی اقرار سے بزرگان سلف نے تمام انبیاء کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بایں معنی اقرار دیا ہے کہ ان سب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی نصرت کرنے کا پختہ عہد لیا گیا تھا۔( آل عمران : ۸۲ ) " الاعلام حکم عیسی علیہ اسلام مسیوطی" بحوالہ تحذیر الناس ما از مولانا محمد قاسم نانوتوی مطبع مجتبائی دهلی شاه ت تحذير الناس من به مطبع مجتبائی دہلی شاه ايضاً اليواقيت والجواهر ج ۲ ص۴۲۰ مطبوعہ مصر ۱۳۵۷ ه قصائد قاسمی صدرت مطبع مجتبائی دہلی ۱۳۹۴