تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 28
مراد خاتمیت زمانی سے یہ ہے کہ کوئی جدید شریعیت لانے والا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا۔قرآنی آیت جس میں خاتم النبیین آیا ہے دونوں قسم کی خاتمیت یعنی رتبی و زمانی پر حاوی ہے رتبی بدلات مطابقی اور زمانی بدلالت التزامی جو اس کو بعد میں لازم ہوئی۔اس کا منفی معلوم کہ نفرت ملی کا النحضرت اللہ علیہ وسلم خاتم زمان بھی ہیں حضرت امام علی القاری (متوفی ) کے نزدیک موضوعات کبیر میں یوں بیان ہوا ہے کہ : جوا المعنى أنه لا ياتي نبي بعده ينسخ مِلَتَهُ وَلَمْ يَكُن مِنْ المَتِهِ ، ! خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا ہی نہیں آئیگا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔میں خاتمیت زمانی کے معصوم کو خاتمیت رتبی کی طرح وسیع قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ بعد میں لاحق پس اد 11 ہوتی ہے جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسمانی ظہور ہوا۔حضرت بانی جماعت احمدیہ نے سر ی خشیم آن میں گوروح محمدی کا ذکر نہیں کیا، لیکن آیت قاب GNANT NOT OWNED (النجمہ کی تفسیر کرتے ہوئے آپ کو قاب قوسین سے پیدا ہونے والے دائرے کا مرکز یعنی نقطہ وسطی قرار دیا ہے میں سے دائرے کے تمام خطر پیدا ہوتے ہیں اور اس طرح نہ صرف انبیا۔اور اولیاء کے لیے بلکہ ساری کائنات کے لیے آپ کے وجود باجود کو علت فاتی قرار دیا ہے اور حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی (متوفی شاه ) نے اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوتے بطور علت فاعلی کے پیش کیا ہے۔مگر اصل حقیقت حضرت بانی جماعت احمدیہ نے کھولی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نات کی علت فاعلی نہیں ، علقت خالی ہیں۔فاملی ملت تو خدا تعالیٰ ہے اور فایت فاعل کے فعل کے لیے محرک ہوتی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے چونکہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمہ اللہ علیہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معنوی باپ قرار دیا ہے (جیسا کہ قبل ازیں بیان ہوا ، اور باپ ایک گونہ علت فاعلی بھی ہوتا ہے گو اصل علت فاعلی خدا تعالیٰ ہی ہے اس لیے انہوں نے علت فاعلی کے وسیع منے لیکر انھضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علت فاعلی قرار دیا ہے حالانکہ ملت فائی بھی بمنزلہ باپ کے ہوتی ہے کیونکہ فاعل فعل نہیں کرتا جب تک کوئی غایت نہ ہو۔حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ (متونی اشتہ) کے قول میں جو آنحضرت کی نبوت -م الموضوعات الكبير ص 49 مطبع مجتبائی دہلی ۱ له حاشیه ص ۲۶۴ - ۲۷۴ ) روحانی ختنه است جلد ۲ ص ۲۱۶-۲۲۶)