تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 15
دا کا ایک بہتا ہوا دریا نظر آتا ہے۔آپ حیران ہونگے کہ حضرت علامہ جلال الدین سیوطی (متوفی شش ) نے البَهْجَةُ السَّوِيَّةُ في الأَسمَاءِ النَّبَوِيَّةِ " میں اور حضرت امام محمد بن یوسف الصالحی الشامی دمتونی ) نے سُبل الهدى والرشاد میں پانچستو اور حضرت شمس الدین محمد این تیمره انتونی نشته اور بعض دوسرے اکابر صوفیانہ نے ایک ہزار نام حضور علیہ الصلوة والسلام بتاتے ہیں نے کے بایں ہمہ یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ گذشتہ تیرہ سو سال میں جو مشاہیر است گزرے ہیں انھوں نے سب سے بڑھ کر حسن پیارے نام کی تفسیر بیان کی ہے وہ خاتم النبیین" ہی ہے۔ری ام قرآن مجید اور انور صلی اللہ علیہ سلم کی حقانیت کی محکم دلیل ہے کیونکہ اللہ قبل شائد اور یہ فرماتا ہے : وَإِن مِنْ شَىءٍ إِلا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُ إِلَّا بِقَدِيرِ ( الحجر : ۲۲) معلومه ہمارے پاس ہرشے کے خزانے موجود ہیں لیکن ہم اسے ایک معین اندازے سے ہی نازل کرتے ہیں۔اس آیت کریمہ سے صاف طور پر ثابت ہے کہ ہر شئی خصوصاً قرآنی خزائن ضرورت زمانہ اور ہرشتی و مقتضائے مصلحت و حکمت کے مطابق ہمیشہ ہی اتر تے چلے جائیں گے علاوہ ازیں خاص طور پر آیت خاتم انبین کے اندر پہلے سے ہی یہ پیشگوئی موجود ہے کہ كَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا یعنی اللہ تعالیٰ ہر شی کو پوری طرح جانتا ہے۔اُسے علم ہے کہ خاتم النبیین کے اندر کیا گیا اسرار ، معارف اور حقائق چھپے ہوتے ہیں اور کس زمانہ میں کن بندگان الہی عشاق قرآن اور خدام خاتم الانبیاء کے ذریعہ اُن کا ظہور مقدر ہے۔؟؟؟ مرقاة شرح مشكوة جلد ۵ ص ۳۷۵ (امام علی القاری) ه ۵۰۰ سبل الهدی والرشاد في سیرت خیر العباد" جلد نمبر ا ص ٥٠٠ مطبوعه قاهره ٥١٣٩٧ س مواہب اللدنیہ جلد نمبر ص ۱۸۷ ( للقسطلانی" مصر ۱۳۲۶ ا ١٨٢