تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 84
آپ خاتم الانبیاء میں اس لیے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی یعنی شبہ گذرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم یا کیونکہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اُسی زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا، اس لیے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈالدی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لیے اسی امت میں سے ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اسی کا نام خاتم الخلفار ہے۔پس زمانہ محمدی کے سر پہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم ہیں اور اُس کے آخر میں مسیح موعود ہے اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا نہ ہوئے کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اُسی نائب النبوت کے عہد سے وابستہ کی گتی ہے اور اُسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے ھو اسلامی هُوَ الَّذِى أرْسَلَ رَسُولَهُ بِالهُدى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ له ، یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور نیچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے یعنی ایک عالمگیر غلبہ اُس کو عطا کرے کالے ه چشمه معرفت رطبع اول منی خشته من ۸۳-۸۷