تفہیماتِ ربانیّہ — Page 87
خلاف مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعُلَاءِ كَأَنَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ٹور آتا ہے ٹور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے۔اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا جائے گا۔وَكَانَ أَمْر أَمَّقْضِيًّا “ (اشتہار ۲۰ فروری ۸ به تبلیغ رسالت جلد ا صفحه ۶۰) اس ایک حوالہ سے ہی معترض کا اعتراض باطل ہو جاتا ہے۔کیونکہ کسی کلام کی۔منشاء متکلم یا ملہم تفسیر کر نانا جائز ہے۔خود معترض پٹیالوی نے بھی لکھا ہے کہ :- الہام کی حقیقی تفسیر مہم سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا۔نہ کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ مرزا جی کی الہامی تفسیر تفہیم کے مقابلہ میں اپنی من گھڑت تاویلیں پیش کرے۔“ ( تحقیق لاثانی صفحه (۸) پھر دیکھئے کس وضاحت سے حضور تحریر فرماتے ہیں :- "مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعُلَاءِ كَأَنَّ اللهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ يَظْهَرُ بِظُهُورِهِ جَلالُ رَبِّ الْعَالَمِينَ يَأْتِيَكَ نُورٌ مَمْسُوحٌ بِعِطْرِ الرَّحْمَنِ۔“ ،، ( آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۷۸) ترجمہ۔وہ صداقت اور بلندی کا مظہر ہوگا، اس کے ظہور سے رب العالمین کے جلال کا ظہور ہوگا۔وہ ایک نور ہے جو خدا کے عطر سے ممسوح ہو کر ہوکر تیرے پاس آئے گا۔“ پھر حضور مز ید توضیح فرماتے ہیں :- إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ مَظْهَرِ الْحَقِّ وَالْعُلَاءِ كَأَنَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ“ ترجمہ۔ہم ایک لڑکے گی تجھے بشارت دیتے ہیں جس کے ساتھ حق کا ظہور ہوگا۔گویا آسمان سے خدا اُترے گا۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۵) اس بات کے حل ہو جانے کے بعد کہ مشابہت ذات میں نہیں بلکہ بلحاظ نزول و ظہور ہے 87