تفہیماتِ ربانیّہ — Page 86
پھر دوسرے موقع پر فرمایا :- ایسا انسان جس کو آنا منك کی آواز آتی ہے اُس وقت دنیا میں آتا ہے جب خدا پرستی کا نام ونشان مٹ گیا ہوتا ہے۔اس وقت بھی چونکہ دنیا میں فسق و فجور بہت بڑھ گیا ہے اور خداشناسی اور خداری کی راہیں نظر نہیں آتی ہیں اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے اور محض اپنے فضل و کرم سے اُس نے مجھ کو مبعوث کیا ہے تائیں ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ سے غافل اور بے خبر ہیں اس کی اطلاع دوں، اور نہ صرف اطلاع بلکہ جو صدق اور صبر اور وفاداری کے ساتھ اس طرف آئیں انہیں خدا تعالیٰ کو دکھلا دوں، اس بناء پر اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کیا اور فرمایا اَنتَ مِنَى وَاَنَا مِنْكَ “ ( اخبار الحکم جلدے نمبر ۳۶) پھر حضور نے جماعت احمدیہ کے لئے بطور مذہب حسب ذیل تلقین فرمائی ہے کہ : وہ یقین کریں کہ ان کا ایک قادر اور قیوم خالق الکل خدا ہے جو اپنی صفات میں ازلی ابدی اور غیر متغیر ہے۔نہ وہ کسی کا بیٹا نہ کوئی اُس کا (کشتی نوح صفحه ۱۰) بیٹا۔کا لیس جب نہ الہام کے الفاظ از روئے زبان معترض کے خود تراشیدہ مفہوم کے متحمل ہیں اور نہ ہی صاحب الہام اس کا دعویدار ہے تو پھر اعتراض کیوں اور کس پر ؟ مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعُلَاءِ كَانَ الله نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ معترض نے یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے حوالہ سے درج کیا ہے اور اس کے ترجمہ میں معترض اپنی طرف سے کہتا ہے :- د یعنی وہ لڑکا ایسا ہو گا جیسا کہ خدا خود آسمان سے اُتر آیا۔“ گو یا معترض یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے الہام میں موعودلر کے کو خُدا ٹھہرایا گیا ہے۔حالانکہ ادنی تدبیر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس جگہ مشابہت نز دل و ظہور میں ہے نہ کہ ذات میں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس اشتہار میں اُسی جگہ تحریر فرماتے ہیں :- 86