تفہیماتِ ربانیّہ — Page 77
سنتا ہے۔آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے۔ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے پکڑتا ہے اور پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔“ اب جو مفہوم بھی اس حدیث کا لو گے وہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کشف کا ہوگا۔اگر یہ حدیث مقام فناء کی تفسیر ہے تو کشف بھی اسی پر دلالت کرتا ہے، اگر یہ مجاز واستعارہ ہے تو کشف بھی مجاز کے رنگ میں رنگین ہے۔بہر حال حدیث اور کشف با ہم مطابق ہیں۔فَانْدَفَعَ الشَّكُ۔مقام فناء اور رؤیا کے متعلق صوفیاء کا مذہب جواب چهارم - صوفیاء کرام و بزرگان اسلام کا اس بارے میں حسب ذیل مذہب ہے :- (الف) "إِنَّكَ تَرَى فِيْهِ فِي الْمَنَامِ) وَاجِبَ الْوُجُوْدِ الَّذِى لَا يَقْبَلُ الصَّوَرَ فِى صُورَةٍ وَيَقُولُ لَكَ مُعَبِّرُ الْمَنَامِ صَحِيعٌ مَّا رَأَيْتَ وَلكِنْ تَأْوِيلُهَا كَذَا وَكَذَا۔“ (الیواقیت والجواہر جلد اول صفحہ ۱۶۳) ترجمہ - تم خواب میں اللہ تعالیٰ کو کسی شکل میں متجسم دیکھ سکتے ہو۔علم التعبیر کا واقف تمہاری خواب کو صحیح قرار دیکر اس کی تاویل بتائے گا۔“ (ب) مولانا سید اسمعیل شہیڈ تحریر فرماتے ہیں :- چوں امواج جذب و کشش رحمانی نفس کاملہ ایں طالب را در قعر بیج بحار احدیت فرومیکشد زمزمه انا الحق وليس فى جنیتی سوی اللہ ازاں سر برے زند کہ کلامِ ہدایت التیام كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِى يَمْشِئ بِهَا ودر رواية وَلِسَانَهُ الَّذِى يَتَكَلَّمُ به حکایت است ازاں وَإِذَا قَالَ عَلَى لِسَانٍ نَبِيِّهِ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ يَقْضِى اللهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ کنایتی است ازاں، ایں مقالیست بس بار یک و مسئله ایست بس نازک، باید که در آن نیک تامل کنی تفصیل اورا بر مقام دیگر تفویض نمائی۔وَرَاءَ ذَاكَ فَلَا أَقُولُ لِأَنَّهُ سِرُّلِسَانِ النُّطْقِ عَنْهُ أَخْرَسُ 77