تفہیماتِ ربانیّہ — Page 796
کیا یہ کفار نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے کم کرتے آرہے ہیں ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے آہستہ آہستہ بڑھ رہے ہیں ) کیا پھر بھی کفار غالب آئیں گے یعنی یہ غالب نہیں آئیں گے بلکہ آخر ہمار ا رسول ہی غالب آئے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے متبعین کے حالات گواہ ہیں کہ آخر کار جسمانی غلبہ بھی ان کو ہی حاصل ہوگا۔معیار نجم فرمایا۔آم يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيْتٍ وَادْعُوَا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللهِ اِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ ، فَأَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنْزِلَ بِعِلْمِ اللہ ( ہو د رکوع ۲) کیا لوگ اس کلام کو افتراء قرار دیتے ہیں؟ ان سے کہدے کہ تم بھی بطور بناوٹ ایسی دین سورتیں بنالا ؤ اور اپنے تمام مددگاروں کو بلا لو اگر تم سچے ہو۔اگر وہ لوگ اس مقابلہ کی تاب نہ لاسکیں تو یقین کر لو کہ یہ کام اللہ تعالیٰ کے علم سے نازل ہوا ہے" سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے اعجازی کلام بخشا جیسا کہ فصل پنجم ،، میں مفصل گزر چکا ہے۔معیار شم۔پیشگوئیوں کا پورا ہونا بھی معیار صداقت ہے۔فرمایاعَلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غيْبَةَ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ ( الجبن رکوع ۲)۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب پیشگوئیاں پوری ہو ئیں۔لیکھرام کے متعلق۔سعد اللہ لدھیانوی۔ڈاکٹر ڈوئی۔دلیپ سنگھ اور زار روس کے متعلق۔طاعون کے متعلق۔جلسہ مہوتسو میں مضمون غالب رہنے کی پیشگوئی وغیرہ وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔معیار ہم اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَّا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعہ رکوع ۳) قرآن مجید کے معارف پاک لوگوں پر ہی کھولے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اللہ تعالی نے یہ دروازہ کھولا اور کسی کو اس میں حضرت سے مقابلہ کی تاب نہ ہوئی جیسا کہ فصل پنجم میں مفصل ذکر ہو چکا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام یقینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔معیاریم۔مشکلات اور آفات کے وقت اللہتعالیٰ اپنے مرسلوں سے خاص اور غیر معمولی معاملہ کرتا ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کے وقت عام طوفان آیا مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور آپ کے ساتھیوں کو خاص رنگ میں کشتی کے ذریعہ بچایا۔فرمایا فَانْجَيْنَهُ وَأَصْحُبَ (796)