تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 750 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 750

(۱۳) قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں مگر ہمارے مخالف حضرت عیسی علیہ السلام کو خاتم الانبیاء ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو صحیح مسلم وغیرہ میں آنے والے مسیح کو نبی اللہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے وہاں حقیقی نبوت مراد ہے۔اب ظاہر ہے کہ جب وہ اپنی نبوت کے ساتھ دنیا میں آئے تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر خاتم الانبیاء پھہر سکتے ہیں؟“ کتاب البریه حاشیه صفحه ۱۹۱ مطبوعہ ۱۸۹۸ء) (۱۴) ”ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ایام الصلح صفحه ۸۶-۸۷ مجریه ۱۸۹ء) ہیں۔66 (۱۵) قرآن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء پھہرایا گیا۔“ اربعین نمبر ۲ صفحه ۲۴ مطبوع ۱۹۰۰ء) 66 (۱۶) ”ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا ولکن رسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ۔(ایک غلطی کا ازالہ مطبوعہ ء) (۱۷) عقیدے کی رُو سے جو خدا تم سے چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر (کشتی نوح صفحه ۱۵ مطبوعه ۱۹۰۲ء) ہے۔(۱۸) ایک وہ زمانہ تھا کہ انجیل کے واعظ بازاروں اور گلیوں اور کوچوں میں نہایت دریدہ دہنی اور سراسر افتراء سے ہمارے سید و مولی خاتم الانبیاء اور افضل الرسل والاصفیاء اور سید المعصومین والاتقیاء حضرت محبوب جناب احدیت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ قابل شرم جھوٹ بولا کرتے تھے کہ جناب سے کوئی پیش گوئی یا معجزہ ظہور میں نہیں آیا۔اور اب یہ زمانہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے علاوہ اُن ہزار ہا معجزات کے جو ہمارے سرور و مولی شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن شریف اور احادیث میں اس کثرت سے (750)