تفہیماتِ ربانیّہ — Page 744
علامہ اقبال کی طفر سے احمدیہ نظریہ کی معقولیت کا اعتراف علامہ اقبال اور دوسرے جدید تعلیم یافتہ لوگ حضرت مسیح کی جسمانی آمد کے خیال کو مجوسیت کا نظریہ ٹھہراتے ہیں اور مودودی صاحب احادیث کی بناء پر مسیح کے جسمانی طور پر آسمانوں سے اُترنے کے قائل ہیں۔یہ دو متضاد نظریتے ہیں اور افراط و تفریط کی دو متقابل را ہیں۔ظاہر ہے کہ جب تک از روئے قرآن مجید حضرت مسیح کا آسمان پر جانا اور زندہ ہونا ثابت نہ کیا جائے تب تک اُن کے جسمانی نزول کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ودونہ خرط القتاد۔کیونکہ قرآن مجید سے ان کی وفات ثابت ہے۔اگر کوئی حدیث ہو جس میں مسیح کے اترنے کا ذکر آئے تو نصوص قرآنیہ کے مقابلہ پر ہونے کی وجہ سے اس کی تاویل کرنی پڑے گی۔ابھی کل کی بات ہے کہ شیخ الازہر مفتی الدیار المصر یہ جناب علامہ محمود شلتوت نے کھلے طور پر فتویٰ دے دیا ہے کہ قرآن مجید سے حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات روز روشن کی طرح ثابت ہے۔(کتاب الفتاویٰ مطبوعہ دسمبر ۱۹۵۹ء صفحه ۵۳ - ۵۴) هم یه فتویٰ مبحث اول میں درج کر چکے ہیں۔ان سے پہلے شیخ الازہر الاستاذ المراغی المرحوم بھی فرما چکے ہیں :- " الظَّاهِرُ مِنْهُ إِنَّهُ تَوَفَّاهُ وَآمَاتَهُ ثُمَّ رَفَعَهُ وَالظَّاهِرُ مِنَ الرَّفْعِ بَعْدَ الْوَفَاةِ أَنَّهُ رُفِعَ دَرَجَاتٍ عِنْدَ اللهِ كَمَا قَالَ فِي إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا “ (کتاب الفتاوی مطبوعہ مصر صفحه ۷۴) کہ آیت سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو وفات دے کر پھر رفع فرمایا ہے اور وفات کے بعد رفع سے یہی مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اُن کے درجات بلند ہوئے جیسا کہ حضرت ادریس کے متعلق آیت وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا میں مُراد ہے۔قارئین کرام ! غور فرمائیں کہ اس صورت میں جناب مودودی صاحب کا اپنے مزعومہ دعوئی پر اصرار کہ حضرت مسیح ضرور جسم سمیت آسمان سے اتریں گے کس طرح درست اور معقول قرار دیا جاسکتا ہے؟ علامہ اقبال نے احمدیت کی مخالفت کرتے ہوئے بھی اعتراف کیا ہے کہ :۔(744)