تفہیماتِ ربانیّہ — Page 738
وفات مسیح از بس لازمی ہے۔گویا یہ پادریوں کے زہر کے لئے قرآنی تریاق ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسلمانوں کو آخری وصیت کے طور پر فرمایا ہے کہ :۔”اے میرے دوستو ! اب میری ایک آخری وصیت کو سنو اور ایک راز کی بات کہتا ہوں اس کو خوب یاد رکھو کہ تم اپنے ان تمام مناظرات کا جو عیسائیوں سے تمہیں پیش آتے ہیں پہلو بدل لو اور عیسائیوں پر یہ ثابت کر دو کہ در حقیقت مسیح ابن مریم ہمیشہ کے لئے فوت ہو چکا ہے۔یہی ایک بحث ہے جس میں فتح یاب ہونے سے تم عیسائی مذہب کی رُوئے زمین سے صف لپیٹ دو گے۔تمہیں کچھ بھی ضرورت نہیں کہ دوسرے لمبے لمبے جھگڑوں میں اپنے اوقات عزیز کو ضائع کرو۔صرف مسیح ابن مریم کی وفات پر زور دو اور پر زور دلائل سے عیسائیوں کو لاجواب اور ساکت کردو۔جب تم مسیح کا مردوں میں داخل ہونا ثابت کر دو گے اور عیسائیوں کے دلوں میں نقش کر دو گے تو اُس دن تم سمجھ لو کہ آج عیسائی مذہب دنیا سے رخصت ہوا۔یقیناً سمجھو کہ جب تک ان کا خدا فوت نہ ہو ان کا مذہب فوت نہیں ہوسکتا اور دوسری تمام بحثیں ان کے ساتھ عبث ہیں۔ان کے مذہب کا ایک ہی ستون ہے اور وہ یہ کہ اب تک مسیح ابن مریم آسمان پر زندہ بیٹھا ہے۔اس ستون کو پاش پاش کرو پھر نظر اٹھا کر دیکھو کہ عیسائی مذہب دنیا میں کہاں ہے۔چونکہ خدائے تعالیٰ بھی چاہتا ہے کہ اس ستون کو ریزہ ریزہ کرے اور یورپ اور ایشیا میں توحید کی ہوا چلا وے اس لئے اُس نے مجھے بھیجا اور میرے پر اپنے خاص الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے۔چنانچہ اس کا الہام یہ ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اُس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔وكان وعد الله مفعولاً انت معی وانت على الحق المبين انت مصیب و معين للحق (ازالہ اوہام طبع پنجم صفحه ۲۳۲) (738)