تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 729 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 729

طبعی موت سے وفات دوں گا۔تجھ پر کوئی ایسا شخص مسلط نہ ہوگا جو تجھے قتل کرسکے۔گویا اس میں بطور کنا یہ بتادیا گیا کہ حضرت مسیح دشمنوں کے قتل وغیرہ سے محفوظ رہیں گے کیونکہ یہ بات پوری کر دیئے جانے اور طبعی وفات پانے سے لازم آتی ہے۔یہ بات بالکل عیاں ہے کہ وفات کے بعد رفع سے مراد صرف بلندی درجات ہی ہوسکتی ہے نہ کہ جسمانی رفع۔بالخصوص جبکہ آیت میں ساتھ ہی وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا کا لفظ بھی موجود ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں پر شرف و عزت اور تکریم شان کا ذکر مقصود ہے۔قرآن مجید میں لفظ رفع ان معنوں میں بکثرت آیا ہے مثلاً آیات : في بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ أَنْ تُرْفَعَ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَّشَاءُ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا يَرْفَعُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا۔۔۔۔الخ پس آیت رَافِعُكَ إِلَى اور بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں وہی مضمون اور تعبیر مراد ہے جو عام قول لحق فلان بِالرّفيق الأعلى“ اور آیات ” اِنَّ الله مَعَنَا “ اور ” عِنْدَ مَلِيبٍ مُّقْتَدرٍ میں مراد ہے۔ان سب جگہ حفاظت، نگرانی اور مقدس پناہ میں داخل ہونے کے سوا کچھ مراد نہیں۔پھر لفظ ”الیه “ میں آسمان کا لفظ کہاں سے لیا جاتا ہے؟ بخدا قرآن کریم کے واضح طریق بیان پر یہ صریح ظلم محض ان قصوں اور روایتوں کی اتباع میں روا رکھا جارہا ہے جن کے درست ہونے پر یقینی طور پر تو کجاطنی طور پر بھی کوئی دلیل یا نیم دلیل قائم نہیں ہے۔آیات کا واضح اور متبادر مفہوم علاوہ بریں حضرت مسیح صرف ایک رسول ہیں ان سے پہلے کے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔حضرت مسیح کی قوم نے اُن سے دشمنی کی اور ان کے بارے (729)