تفہیماتِ ربانیّہ — Page 717
بھائیو! نصوص قرآنیہ ہر رنگ میں اور ہر حیثیت سے حضرت مسیح علیہ السلام کی موت کو واضح طور پر بیان کرتی ہیں۔انکی موجودگی میں آپ کیوں بلاوجہ وہ عقیدہ بناتے ہیں جو نہ صرف قرآن مجید کے ہی خلاف ہے بلکہ بانی اسلام علیہ التحیۃ والسلام کی عظمت میں بھی فرق لانے والا ہے۔آپ خدائے واحد کے نام پر تنہائی میں غور فرما ئیں کہ کون سا عقیدہ توحید کامل کا مؤید اور شان نبوی کے مطابق ہے، حیات مسیح یا وفات مسیح ؟ شیخ الازہر مفتی مصر، شیخ الاسلام علامہ محمود شلتوت کا فتویٰ الاستاذ علّامہ محمود شلتوت کی خدمت میں حضرت مسیح کی حیات و وفات کے بارے میں استفتاء پیش ہوا۔آپ نے اس پر اعلان فرمایا کہ قرآن مجید سے حضرت مسیح کی وفات ثابت ہے۔اس پر بعض علماء نے اُن سے اختلاف کیا۔بحث و تمحیص کے بعد قرار پایا کہ قرآن مجید سے وفات مسیح صریح طور پر ثابت ہے۔دسمبر ۱۹۵۹ ء میں علامہ موصوف کے فتووں کا مجموعه مطبعة الازهر الفتاوی کے عنوان سے شائع ہوا اور آپ اُس وقت شیخ الازھر تھے یہ ذیل میں وہ اصل فتویٰ پہلے عربی میں درج کیا جاتا ہے اور پھر اس کا لفظ بلفظ ترجمہ بھی دیا جائے گا۔یہ فتویٰ احمدیت کی فتح عظیم ہے اور غیر عرب علماء و عوام کے لئے خاص طور پر قابل توجہ ہے۔علامہ موصوف رفع عیسی کے زیر عنوان تحریر فرماتے ہیں:۔وو رفع عیسی " وَرَدَ إِلَى مَشِيخَةِ الْأَزْهَرِ الْجَلِيْلَةِ مِنْ حَضْرَةِ عَبْدِ الْكَرِيم خَانِ بِالْقِيَادَةِ الْعَامَّةِ لِجُيُوشِ الْشَّرْقِ الْأَوْسَطِ سُوَالٌ جَاءَ فِيهِ : هَلْ عِيسَى) حَيَّ أَوْمَيِّتٌ فِى نَظرِ الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ وَالسُّنَّةِ الْمُطَهَّرَةِ؟ وَمَا حُكْمُ الْمُسْلِمِ الَّذِى يُنْكِرُ أَنَّهُ حَقٌّ ؟ وَمَا حُكْمَ مَنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهِ إِذَا فَرِضَ أَنَّهُ عَادِ إِلَى الدُّنْيَا مَرَّةً أُخْرَى؟ ے حال ہی میں آپ کا انتقال ہو چکا ہے۔(المؤلف) (717)