تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 673 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 673

اس لئے ان کا ماننا بھی قرآن کے ماننے میں شامل ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کی بشارت دی اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے میں مسیح موعود کے ظاہر ہونے پر مسیح موعود کا ماننا بھی داخل ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت کے لئے نشانات و معجزات دکھلائے اس لئے خدا تعالیٰ پر ایمان کے ضمن میں حضور علیہ السلام پر ایمان لانا بھی ضروری ٹھہرا۔دراصل حضرت مرزا صاحب پر ایمان لانے کو ضروری ماننے سے اسلام میں نقص لازم نہیں آتا بلکہ اس کی خوبی نمایاں ہوتی ہے کہ وہ ایک ایسا زندہ مذہب ہے جو ہر زمانہ میں اپنا پھل دیتا ہے۔یوں حضرت مرزا صاحب نبی ہیں۔ایک نبی کا انکار در حقیقت سب انبیاء کا انکار ہوتا ہے۔چنانچہ تفسیر خازن میں زیر آیت كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحِ الْمُرْسَلِينَ لکھا ہے :- " فَإِنْ قُلتَ كَيْفَ قَالَ الْمُرْسَلِينَ وَإِنَّمَا هُوَ رَسُولٌ وَاحِدٌ وَكَذَالِكَ بَاقِي الْقِصَصِ قُلْتُ لِأَنَّ دِينَ الرُّسُلِ وَاحِدٌ وَاِنَّ الْآخِرَ مِنْهُمْ جَاءَ بِمَا جَاءَ بِهِ الْأَوَّلُ فَمَنْ كَذَّبَ وَاحِدًا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَقَدُ كَذَّبَ جَمِيعَهُمْ۔“ ( خازن جلد ۳ صفحه ۴۳۵) کہ اگر تم یہ سوال کرو کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں فرمایا کہ نوٹ کی قوم نے رسولوں کی تکذیب کی حالانکہ انہوں نے نوح کو جھٹلایا تھا اور وہ ایک رسول تھا۔ایسا ہی قرآن مجید کے باقی نبیوں کے بیان میں بھی اسی طرح مذکور ہے تو میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ تمام نبیوں کا دین ایک ہی ہے، ان میں سے بعد میں آنے والا بھی وہی پیغام اور مشن لیکر آتا ہے جو پہلے کا تھا۔پس نبیوں میں سے کسی ایک کو جھٹلانے والا در حقیقت جملہ نبیوں کا مکذب قرار پاتا ہے۔“ سیہ بات ایک واضح حقیقت ہے کہ جب سب نبی ایک ہی مشن لیکر آتے ہیں اور ہر ایک کی سچائی یکساں دلائل سے ثابت ہوتی ہے اور ہر ایک کی صداقت کے لئے آسمانی نشانات ظاہر ہوتے ہیں تو پھر آج کے نبی کی تکذیب کرنے والا اگر پہلے کسی نبی کے وقت میں پیدا ہوتا تو وہ یقیناً اس کی بھی تکذیب کرتا۔کفر و اسلام کا اصل معاملہ تو اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے، وہی دلوں کا جاننے والا (673)