تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 640 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 640

کی طرح بتارہے ہیں کہ اشتہار ۱۵ را پریل دُعائے مباہلہ تھا۔دلیل اوّل۔اس اشتہار کا عنوان ہے۔”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“۔اگر یہ یکطرفہ دعا ہوتی۔تو عنوان یوں چاہئے تھا۔”مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق آخری فیصلہ پیس لفظ ساتھ بتا رہا ہے کہ یہ وہ فیصلہ ہے جس میں مولوی ثناء اللہ صاحب کا بھی دخل ہے۔اور یہ فیصلہ بتراضی فریقین ہی ہو سکتا ہے۔یعنی یہ دعائے مباہلہ ہے۔نیز لفظ ” آخری فیصلہ مذہبی رنگ میں مباہلہ کے لئے ہی بولا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی لفظ ” آخری فیصلہ اسی مفہوم میں استعمال فرمایا ہے۔(اربعین ہے صفحہ ۱۱) بلکہ اللہ تعالیٰ نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے قلم سے بھی اس لفظ کو انہی معنوں میں استعمال کروایا ہے۔مولوی صاحب آیت مباہلہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :- ایسے لوگوں کو جو کسی دلیل کونہ جانہیں کسی علمی بات کو نہ سمجھیں ، بغرض بد بدر باید رسانید کرد۔کہ آؤ ایک آخری فیصلہ بھی سنو۔ہم اپنے بیٹے ، اور تمہارے بیٹے ، اپنی بیٹیاں اور تمہاری بیٹیاں، اپنے بھائی بند نزد یکی، اور تمہارے بھائی بند نزدیکی بلالیں۔پھر عاجزی سے جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں خدا خود فیصلہ دُنیا ہی میں کر دے گا۔جوفریق اُس کے نزدیک جھوٹا ہوگا وہ دنیا میں بر باداور مور د غضب ہوگا۔( تفسیر ثنائی جلد ۲ صفحه ۳۴) الغرض اس اشتہار کا عنوان صاف بتا رہا ہے کہ یہ دُعائے مباہلہ ہے۔دلیل دوم۔حضرت اقدس نے لکھا ہے :- بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب" اب اگر یہ یکطرفہ دُعا تھی اور یہ اشتہار محض اعلان دُعاء یکطرفہ تھا۔تو اسے مولوی ثناء اللہ صاحب کی خدمت میں بھیجنے کا کیا مطلب؟ معلوم ہوا کہ یہ اشتہار دعائے مباہلہ تھا۔لے معلوم ہوا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ دُنیا میں غضب مباہلہ کرنے والے جھوٹے منکر پر نازل ہوتا ہے۔اگر وہ مباہلہ سے انکار کر جائے تو دنیا میں عذاب لازمی نہیں البتہ آخرت کا عذاب ہوگا۔(ابوالعطاء) 640)