تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 58 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 58

پھر دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں :- ” جب عیسائیوں نے اپنی بدقسمتی سے اس رسول مقبول کو قبول نہ کیا اور اس (عیسی) کو اتنا اُڑایا کہ خدا بنا دیا تو خدا تعالیٰ کی غیرت نے تقاضا کیا کہ ایک غلام غلمان محمد سہی سے یعنی یہ عاجز اس کا مثیل کر کے اس اُمت میں سے پیدا کیا اور اس کی نسبت اپنے فضل اور انعام کا زیادہ اس کو حصہ دیا۔تا عیسائیوں کو معلوم ہو کہ تمام فضل خدا تعالی کے اختیار میں ہے۔“ (تذکرة الشهادتين صفحه ۲۱) غرض اس قسم کے جملہ الہامات اسی صداقت بینہ کے شاہد ہیں کہ برتر گمان وو ہم سے احمد کی شان ہے۔جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے افسوس ان پر جو اب بھی اعتراض سے باز نہ آئیں۔(3) اولیاء اللہ کے محاورہ میں مجازی طور پر کسی ولی کو ولد کہنا بھی جائز ہے۔مولانا روم فرماتے ہیں a اولیاء اطفال حق انداے پسر در حضور و غیبت آگاه باخبر غائے مندلیش از نقصانِ شاں کو کشد کیں از برائے جانِ شاں گفت اطفال من اند این اولیا در غریبی فرد از کار و کیا (مثنوی دفتر سوم صفحه ۱۳) خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے الْخَلْقُ عِيالُ اللَّهِ فَأَحَبُّ الْخَلْقِ الَى اللهِ مَنْ أَحْسَنَ إلى عِيَاله مخلوق اللہ کی عیال ہے۔جو شخص اللہ تعالیٰ کے عیال کے ساتھ احسان کرتا ہے وہ خدا کا محبوب ترین بندہ ہے۔(مشکوۃ باب الشفقة ) پھر ایک حدیث قدسی میں بُھو کے، ننگے اور پیاسے کی حاجت روائی کو خدا تعالیٰ کی حاجت روائی قرار دیا گیا ہے۔(مشکوۃ شریف باب عيادة المریض صفحه ۱۳۲ مطبوع مجتبائی) اسی مفہوم کو مد نظر رکھ کر شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے بائیبل کے محاورہ ابن اور ولد“ کے متعلق تحریر فرمایا ہے :- 58